خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 209
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۰۹ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء صدقہ کے ساتھ کس طرح اپنی قسمتوں کو بدل سکتے ہیں۔استغفار بھی دعا ہے۔پس دعا اور صدقہ کے ساتھ انسان غیب کی بدحالی کو خوشحالی سے بدل سکتا ہے۔مثلاً یہ جو منذر خواب آجاتی ہے یہ تمہیں ڈرانے کے لئے نہیں آتی۔یہ تمہاری بہبود کے لئے آتی ہے۔یہ اس لئے آتی ہے کہ تم خدا تعالیٰ کے حضور صدقہ دو، مالی قربانی دو، اپنے جذبات اور روح کی قربانی دو تا کہ وہ خطرہ جو منذر خواب میں نظر آیا ہے وہ ٹل جائے۔یہ بھی دراصل ایک مِفْتَاحُ الْغَيْبِ ہے۔مَفَاتِحُ الْغَيْبِ تو بے شمار ہیں مگر اس وقت ان کی تفصیل میں میں نہیں جاسکتا۔غرض فرمایا تھا کہ وَلَا اَعْلَمُ الْغَيْبَ میں غیب نہیں جانتا۔یہ عبدہ کی صدا تھی کیونکہ عبد کی حیثیت میں مقام تذلل و عاجزی اور اطاعت و فرمانبرداری کے لحاظ سے آپ کے منہ سے یہی نکلے گا لا أَعْلَمُ الْغَيْبَ۔میری ذات میں کیا خوبی ہے۔اس لئے میں کسی غیب کو نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہمارا رسول بھی ہے۔یہ ہمارا محبوب بھی ہے یہ ہمار محمد اور خاتم النبیین بھی ہے۔ہم اس کے ہاتھ میں غیب کی چابیاں پکڑا دیں گے۔سارا قرآن غیب کی چابیاں ہی تو ہے۔پھر جہاں تک غیب کا تعلق ہے سب سے بڑا غیب ،سب سے اہم غیب اور سب سے زیادہ جس غیب کی ہمیں فکر کرنی چاہیے وہ مرنے کے بعد آخرت کی زندگی کے متعلق غیب ہے۔اس غیب کے متعلق قرآن کریم کی ایک ایک آیت ہی نہیں بلکہ میں کہتا ہوں ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف اس کی چابی ہے۔پس فرمایا یہ چابیاں ہیں۔ان کو لگاؤ اور قرآن کریم کے مطابق اپنی زندگیاں گزارو۔جنت کے قفل تمہارے لئے کھول دیئے جائیں گے۔جنت غیب ہی تو ہے۔حاضر کہاں ہے۔مرنے کے بعد کی زندگی غیب ہے۔یہاں تو کوئی ارواح نہیں۔وہ تو اپنے اپنے مقام پر ہیں۔اس آیت میں تیسرا اعلان ایک تیسرے نقطہ نگاہ سے یہ کیا گیا تھا کہ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكَ میں یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں۔اس کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میں تمہاری حفاظت کروں گا کیونکہ قرآن کریم میں آتا ہے کہ ہم فرشتے بھیجتے ہیں۔ہماری تعبیر الرویاء