خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 210 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 210

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۱۰ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء کی کتابوں میں بھی یہی لکھا ہے اور ہمارے احمدی مردوں اور عورتوں کا تجربہ بھی یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ہماری حفاظت کے متعلق بتانا ہو تو اللہ تعالیٰ اس طرح بھی بتایا کرتا ہے کہ میں اپنے فرشتوں سے تمہاری حفاظت کرواؤں گا یا یہ فرماتا ہے کہ میں نے تمہاری حفاظت کے لئے فرشتے بھیج دیئے ہیں۔پس اس معنی میں ولا أَقُولُ لَكُمْ اِنِّى مَلَكَ میں یہ اعلان ہوگا کہ میں بحیثیت عبد ہا تمہاری حفاظت کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔إنِّي مَل کے دوسرے معنے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ میں اپنی پاکیزگی کا اعلان نہیں کرتا۔اس لئے ہم میں سے کسی آدمی کا یہ کہنا کہ فلاں شخص تو فرشتہ ہے۔یہ غلط ہے کیونکہ اس کا تو یہ مفہوم بنتا ہے کہ فلاں آدمی بالکل معصوم ہے اور اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ ہے حالانکہ اس چیز کا دعویٰ تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمایا ہے کہ اگر میرے محبوب بندے بننا چاہتے ہو تو تم اپنی طرف سے یہ اعلان نہ کرنا کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ یہ اعلان کرنا ہے کہ میں لوگوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہوں۔یہ عبدہ کا اعلان تھا جو وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكُ کی صورت میں کیا گیا۔رسولہ کا اعلان سورہ انعام میں آگے جا کر یوں آتا ہے :۔وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً - (الانعام : ۶۲) یعنی جس ہستی کا یہ رسول ہے وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور عربی زبان میں اس غلبہ کے ساتھ عاجزی اور تذلل کے معنے بھی لگے ہوئے ہیں۔اسلئے ہم اس کے یہ معنے بھی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ غالب ہے۔اُس نے اپنی مخلوق کے ایک حصے کو عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنے پر جبراً مجبور کر دیا ہے۔مثلاً یہ ہوا ئیں ہیں، یہ فرشتے ہیں مگر انسان کے لئے یہ حکم دیا کہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تذلل کی راہوں کو اختیار کیا جائے کیونکہ وہ غالب ہے۔غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں تو بندہ ہوں۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میں تمہاری حفاظت کا ذمہ دار ہوں اور اپنے اندر کوئی غلبہ اور طاقت رکھتا ہوں لیکن میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ جس خدا کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں۔وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِہ وہ انسانوں پر غلبہ رکھتا ہے