خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 184

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸۴ خطبه جمعه ۲۱ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ء ارادہ کرتا ہے کہ میں نے یہ کام کر کے چھوڑنا ہے۔میں اس کے لئے تو جہ بھی دوں گا۔میرے پاس اس کی تکمیل کے لئے بڑے سامان موجود ہیں۔غرض وہ اپنے دل میں کہتا ہے میں یہ کروں گا میں وہ کروں گا۔مگر اللہ تعالیٰ کا خانہ خالی رہ جاتا ہے حالانکہ انسانی عزم کی کامیابی کے لئے اللہ تعالیٰ پر تو کل بھی بڑا ضروری ہے۔انسان جب بھی کسی کام کا عزم کرے تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنی طاقت یا اپنے علم یا اپنی خواہش یا اپنے بلند ارادے یا اپنے سامانوں پر بھروسہ نہ کرے بلکہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے محض خدا تعالیٰ اور اس کی صفات پر توکل رکھے اور اس کی طاقتوں پر تکیہ کرے۔اگر کوئی آدمی ایسا نہیں کرتا تو شیطان اس کے ارادوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔پس عزم کے عملی پہلوؤں میں ایک تو کوئی کمزوری نہیں آنی چاہیے۔یعنی نہ سنجیدگی سے کام کرنے کے لحاظ سے کمزوری پیدا ہو اور نہ پوری طاقت کے استعمال میں کمزوری پیدا ہو کیونکہ آدھی پیچدھی طاقت خرچ کر دینے سے کوئی کام پورا نہیں ہوسکتا۔دوسرے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہم اپنی قوتِ بازو سے اپنے ارادوں کو کامیاب بنادیں گے۔ہمارے ارادے خواہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں ، ہماری نیتیں خواہ کتنی ہی نیک کیوں نہ ہوں اگر اس ارادے یا نیت نے اللہ تعالیٰ کے دامن کو نہیں تھاما اور اسے مضبوطی کے ساتھ نہیں پکڑا تو پھر کامیابی ممکن نہیں۔پس جماعت کو یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے۔ہمارے وہ مظلوم، غریب اور مستحق بھائی جن کے حقوق کی ادائیگی کے سامان پیدا ہونے کا امکان ہمیں اُفق سیاست پر نظر آ رہا ہے اُن کے حقوق کی حفاظت کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ میسر آجائیں یعنی مشاورت کے بعد صحیح عزم کا ہونا پھر عزم کے دونوں پہلوؤں کا پایا جانا۔پھر عزم یعنی پختہ ارادے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تکبر اور غرور کا پیدا نہ ہونا یعنی اپنے نفس پر، یا اپنی فراست پر یا اپنے علم پر یا اپنے تجربہ پر یا اپنی استطاعت پر یا اپنی دولت پر بھروسہ اور تکیہ نہ کرنا بلکہ محض اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا اور یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی کامیابی عطا ہوتی ہے۔خدا کرے کہ ہمارے مظلوم بھائیوں کی خاطر ہماری موجودہ حکومت کو یہ سامان میسر آئیں اور خدا کرے کہ ہمارے غریب اور مظلوم بھائیوں کے اندھیروں کے دن حقیقتا ختم ہو جائیں۔یہ محض زبانی