خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 183
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸۳ خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۷۲ء معنوں کے اندر شامل ہے اور پختہ ارادہ جس پر سنجیدگی اور پوری صحت اور طاقت سے عمل کیا جائے اس کو عربی زبان میں ”عزم“ کہتے ہیں۔پس موجودہ لیجسلیچر نے جو فیصلے کئے ہیں ان کی حیثیت زیادہ سے زیادہ پختہ ارادہ کی ہے یعنی ایک خاص معاملہ کے متعلق فیصلہ ہو گیا لیکن عزم کا جو دوسرا بنیادی اور اہم حصہ ہے یعنی پوری سنجیدگی کے ساتھ اور ساری طاقت کے ساتھ اپنے اپنے ارادہ کو عملی جامہ پہنا کر نیک نتائج تک پہنچا دینا، یہ یجسلیچر یعنی مقنہ کا کام نہیں ہے، یہ انتظامیہ یعنی حکومت کا کام ہے مثلاً اب ان حالات میں یہ صدر بھٹو کا کام ہے، یہ اُن کے وزراء کا کام ہے، یہ اُن کے مشیروں کا کام ہے، یہ صوبوں کے گورنروں کا کام ہے یا اُن کے وزراء کا کام ہے۔غرض لیجسلیچر کے فیصلوں پر عمل درآمد کرانا ( لیجسلیچر کے باہر ) حکومت کا کام ہے۔پس مرکزی لیجسلیچر نے فیصلہ کر دیا ہے اور یہ عزم کا ایک حصہ ہے کہ پختہ عزم کر لیا کہ ہم نے یوں کرنا ہے لیکن اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانا اور پوری ہمت اور کوشش سے کامیاب کرنا یہ عزم کا دوسرا حصہ ہے جس کا تعلق ایگزیکٹو سے ہے یعنی موجودہ شکل میں صدر مملکت اور ان کے وزراء یا حکومت کی دوسری مشینری یعنی کل پرزے جو ہیں یہ اُن کا کام ہے۔جہاں تک انتظامیہ کی کارکردگی کا تعلق ہے اس میں دو برائیاں پیدا ہوسکتی ہیں جن سے بچنے کے لئے ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو ان سے محفوظ رکھے۔ایک برائی یہ پیدا ہوسکتی ہے کہ جو عزم کا عملی حصہ ہے یعنی پختہ ارادہ کو پوری سنجیدگی اور ساری طاقت کے ساتھ عملی جامہ پہنانا اس میں کوئی کمزوری نہ پیدا ہو جائے مثلاً ہماری لیجسلیچر یعنی مقننہ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ بس فیصلہ ہو گیا ہے۔اب اس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں چنانچہ عزم کے اس عملی حصے کی طرف جب پوری سنجیدگی کے ساتھ اور پورے طور پر توجہ نہیں دی جاتی تو اس میں ایک بنیادی نقص پیدا ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے دل کا ارادہ ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ کوئی بھی دلی ارادہ اس وقت تک نتیجہ خیز نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ حسنِ عمل نہ ہو۔عزم کے عملی حصے میں دوسری خرابی یہ پیدا ہوسکتی ہے کہ مثلاً انسان کسی کام کے متعلق یہ پختہ