خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 182
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۸۲ خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۷۲ ء پس جہاں ہمارے لئے یہ امر انتہائی دکھ وہ ہے کہ مشرقی پاکستان عارضی طور پر ہم سے جدا ہو گیا ہے وہاں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لے یہ خوشی کا سامان پیدا کر دیا ہے کہ لاقانونیت اور مارشل لاء کا دور ختم ہوا اور قانون اور عوامی حکومت کا دور شروع ہو گیا ہے۔عوامی جمہوریہ دراصل مشاورت کے اصول پر قائم ہوتی ہے اسلام کا بنیادی اصول بھی یہی ہے کہ باہم مشورہ کے ساتھ حکومت کا نظم ونسق چلانا ہے چنانچہ یہ مسئلہ تو طے ہو گیا ہے اس وقت میں جماعت کو اس امر کے متعلق توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ان کی دعا کرنے کی ذمہ داری ہے، جماعت کو اس طرف بھی متوجہ رہنا چاہیے۔دراصل جہاں تک مشورہ کا تعلق تھا وہ لیجسلیچر یعنی منتخب نمائندوں کی اسمبلی ( جسے زیادہ تر ان ووٹوں نے منتخب کیا ہے جن کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے ) قائم ہوگئی ، مارشل لاء ختم ہو گیا۔اب اُنہوں نے سوچنا بھی ہے،مشورے بھی کرنے ہیں۔مشورے تو ہوں گے لیکن دُنیا کا کام محض مشوروں سے کامیابی تک نہیں پہنچتا۔پس مشورہ کے علاوہ دو اور چیزوں کی ضرورت ہے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ فلاح و کامیابی کے لئے ایک تو عزم اور دوسرے تو گل کی ضرورت ہے۔اگر کوئی مشورہ عزم پر منتج نہ ہو یعنی اگر لوگ ویسے ہی باتیں بنائیں اور دھواں دھار تقریریں کریں اور پھر منتشر ہو جائیں تو یہ لا یعنی مشورہ ہے، مشورہ اگر صحیح راہ پر ہے تو اسے نتیجہ خیز بنانے کے لئے عزم کا ہونا ضروری ہے ورنہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اور عزم کے کامیاب ہونے کے لئے تو کل ضروری ہے جس کے بغیر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔پس مجلس مشاورت یعنی لیجسلیچر کے سامان تو پیدا ہو گئے لیکن اگر ہمارے ملک اور ہماری قوم نے ترقی کرنی ہے اور دُنیا میں عزت کا کوئی مقام حاصل کرنا ہے تو اس کے لئے از بس ضروری ہے کہ مشاورت یعنی لیجسلیچر کے مشوروں کے بعد صحیح عزم اور صیح تو گل پیدا ہو۔اس کے لئے ہمیں دعا کرنی چاہیے۔عزم کے دو معنے ہیں۔ایک پختہ ارادہ کرنے کے یعنی اپنے دل میں یہ عہد کر لینا کہ میں یہ کام ضرور کروں گا۔اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ جو پختہ ارادہ کیا گیا ہے اس پر سنجیدگی کے ساتھ اور اپنی پوری طاقت اور قوت کے ساتھ عمل کرنا۔غرض یہ ہر دو قسم کا مفہوم عزم کے