خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 179
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۷۹ خطبه جمعه ۲۱ ۱۷اپریل ۱۹۷۲ء میں سے پہلا گروہ ۴۷ ء اور کچھ عرصہ بعد میں پیدا ہونے والے بچے ہیں یعنی وہ بچے جو ۵۱۷۵۰ء تک پیدا ہوئے اور اب وہ ۲۱ اور ۲۴ سال کی درمیانی عمر کے ہو چکے ہیں (اور ۲۱ سال کی عمر میں انہیں اپنی رائے دینے کا حق بھی مل چکا ہے ) اور دوسرے وہ لوگ جو تقسیم ملک کے وقت ۲۴، ۲۵ سال کے تھے اور اب ۴۹، ۵۰ سال کے ہو گئے ہیں ان دونوں گروہوں کو اب تک حکومت میں کوئی حصہ نہیں ملا تھا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی خاص تقدیر چل رہی تھی کہ انہیں حکومت میں کوئی حصہ نہ ملے تاہم ان کو جس چیز میں حصہ ملا وہ تھا ”سیاست بازی“ اور ”سیاسی جوڑ توڑ کو دیکھنا ، ان کا مشاہدہ کرنا اور ان کو Percieve( پرسیو ) یعنی محسوس کرنا اور پھر اپنے دماغ میں سوچنا کہ یہ ہو کیا رہا ہے؟ اور پھر کسی نتیجہ پر پہنچنا اور اس نتیجہ پر پہنچ کر کسی خاص قسم کے عمل کے لئے تیار ہو جانا۔یعنی ایک طالب علم جو تربیت حاصل کر رہا تھا، جوفر است حاصل کر رہا تھا، جو علم حاصل کر رہا تھا جو علم سے نتائج نکال رہا تھا اور جس کے دل میں ایک خواہش اور امنگ پیدا ہورہی تھی کہ ملک میں ہونا تو یوں چاہیے لیکن ہو کچھ اور رہا ہے۔چنا نچہ پچھلے الیکشن پر ملکی آبادی کے اس حصے کو پہلی دفعہ اپنی رائے کے اظہار کا موقع ملاجس میں اس نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی شان ہے کہ ہمارے ملک کی ہر سیاسی پارٹی کی نظر سے یہ حقیقت اوجھل تھی۔اس طرف کسی کو خیال ہی نہیں گیا کہ اس الیکشن کا نتیجہ کن لوگوں کے ووٹوں کی اکثریت سے نکلے گا۔بس وہ اپنے پرانے اربعے لگا رہے تھے اور خود ہی اپنے دل میں فیصلے کر رہے تھے کہ یہ نتیجہ نکلے گا وہ نتیجہ نکلے گا۔رورو مجھے کسی آدمی نے بتایا ہے واللہ اعلم یہ صحیح ہے یا غلط کیونکہ میرے پاس تو ایسے ذرائع نہیں ہیں کہ میں حکومت کو ملنے والی رپورٹوں کے متعلق یہ کہ سکوں کہ واقعی ایسی رپورٹ کی گئی تھی تا ہم یہ بات مشہور ہے کہ گذشتہ انتخابات سے معا پہلے پنجاب کے متعلق حکومت کی انٹیلی جینس کی رپورٹ یہ تھی کہ دولتانہ صاحب کو پنجاب سے قومی اسمبلی کی ۲۶،۲۵ نشستیں ملیں گی۔جماعت اسلامی کو ۱۳ ، ۱۴ نشستیں ملیں گی اور پیپلز پارٹی کو ۷، ۸ نشستیں ملیں گی وغیرہ۔اس طرح اُنہوں نے پنجاب کی جو کہ غالباً ۸۲ نشستیں ہیں ان کا تجزیہ کیا ہوا تھا۔