خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 172 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 172

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۷۲ خطبہ جمعہ ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء چندہ لے جائے گا۔ایسے عہدیدار اس کے اس حسن ظن کو پورا کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بننے والے ہیں۔لیکن اگر عہدیداروں کے ایک حصے میں کمزوری کی وجہ سے جماعت کی بدنامی سمجھی جائے تو یہ بات غلط ہے۔اس سے جماعت کی کوئی بدنامی نہیں ہوتی۔جماعت کی بدنامی تو تب ہوتی جب مقامی عہدیدار اصلاح یا تبدیلی کے نتیجہ میں چوکس ہو جائیں مگر وہ جماعت پھر بھی کمزوری دکھائے مگر عملاً اس صورت میں کسی جماعت نے کمزوری نہیں دکھائی مثلاً کراچی کی جماعت ہے یہ اپنے بجٹ کو سو فی صدی پورا کرنے کے بعد آگے نکل گئی ہے۔میں نے کہا تھا کہ تم نے جو سو فیصدی پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا وہ تمہارا مقصود اور معیار نہیں ہے بلکہ ۱۱۰ تک پہنچو۔چنانچہ کراچی کی جماعت نے ۱۱۰ تک پہنچنے کی کوشش کی ہے ۱۰۴/ ۱۰۳ تک وہ پہنچ چکے ہیں ممکن ہے اس وقت تک کچھ اور آگے نکل چکے ہوں (اور ابھی چند دن باقی بھی ہیں ) بہر حال وہ اپنے بجٹ کو سو فیصدی پورا کرنے کے بعد آگے نکل گئے ہیں۔اب اسی کراچی کی جماعت پر ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب یہ سو کی بجائے ۳۰/ ۲۵ تک بھی پہنچ نہیں پاتی تھی۔اس واسطے کہ اس وقت یہ جماعت تربیت کی محتاج تھی۔بعض احمدی دوست تربیت کی احتیاج رکھنے والے تھے لیکن اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ جماعت سے کام لینے والے عہد یدار جو تھے۔وہ یا تو کام لے نہیں رہے تھے یا کام لے نہیں سکتے تھے۔بہر حال عہد یدار جماعت سے کام نہیں لے رہے تھے۔مگر اب وہی جماعت ہے جو اپنے عہد یداروں کی چوکسی اور بیداری اور رضا کارانہ طور پر کام کرنے کے نتیجہ میں اپنے بجٹ کو سو فیصدی پورا کر کے آگے نکل گئی ہے۔پس ایک بات تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر کوئی جماعت یا کوئی حلقہ چندوں کی ادائیگی میں پیچھے رہ جاتا ہے تو اس پر الزام نہ دھرو کیونکہ ان کے اخلاص میں مجھے بظاہر کوئی کمزوری نظر نہیں آتی۔دوسرے یہ کہ ایسی جماعتوں یا حلقوں کے عہدیداروں کو ٹھیک کیا جائے کیونکہ مجھے ان عہد یداروں میں کمزوری نظر آتی ہے۔پس جماعت کا جو حصہ بھی انہیں ٹھیک کرنے والا ہے وہ