خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 173 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 173

خطبات ناصر جلد چہارم خطبہ جمعہ ۱۴ را پریل ۱۹۷۲ء اس سلسلہ میں ضروری کارروائی کرے۔اگر یہ کام میرے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو میں اُن کو ٹھیک کروں گا۔ہمیں کسی فرد کے ساتھ پیار نہیں اور نہ ہمیں کسی فرد سے دشمنی ہے۔ہمیں ہر فرد کے اس فعل سے پیار ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے خلوص نیت سے کیا گیا اور ہمیں ہر بڑے عمل سے نفرت ہے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف کیا گیا ہے۔ہمیں بد عمل شخص سے کوئی نفرت نہیں اور نہ اس سے کوئی دشمنی ہے لیکن اس سے جو بر اعمل سرزد ہوتا ہے اس سے ہمیں نفرت ہے اور اسی بُرے عمل کو ہم دُنیا سے مٹانا چاہتے ہیں۔ہم بدعمل کرنے والے کو ہلاک نہیں کرنا چاہتے اس کے تو ہم خیر خواہ اور ہمدرد ہیں اور اُسے نیکی کی راہ پر چلانے کے لئے بے تاب ہیں اور اس کے لئے ہم ہر وقت کوشاں ہیں۔تاہم جو نیک کام ہے اور خوبی کی بات ہے یا جو کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے نیک نیتی سے کیا جاتا ہے اس کے لئے ہمارے دل میں اللہ تعالیٰ نے بڑا پیار پیدا کیا ہے مگر جو جماعتیں یا حلقے چندوں کی ادائیگی کے سلسلہ میں خلوص نیت کے باوجو د عہد یداروں کی غفلت کے نتیجہ میں بظاہر داغدار سمجھے گئے ہیں انہیں داغدار سمجھنا غلطی ہے۔اُن پر کوئی داغ نہیں ہے البتہ ان کے عہدیدار ضرور داغدار بن گئے ہیں۔اس لئے ایسے عہد یداروں کی اصلاح ہونی چاہیے۔یا پھر اُن کی تبدیلی ہونی چاہیے جو اپنے وقت پر ہو جائے گی لیکن ان چند دنوں میں ایسی جماعتوں یا حلقوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے عہدیداروں کو جو غافل ہیں یا سست ہیں یا نااہل ہیں یا ان میں کوئی اور کمزوری پائی جاتی ہے ان کو پرے ہٹا دیں اور اپنے چندے براہ راست مرکز میں آکر جمع کروادیں۔مجھے جماعت کے متعلق پورا وثوق اور یقین ہے کہ وہ اپنے چندوں کی ادائیگی میں مخلص ہیں اس لئے ان پر یہ داغ نہیں آتا کہ وہ اپنے حلقے یا قصبے یا گاؤں میں مالی قربانی میں پیچھے رہ گئے ہیں۔اگر عہد یدار اُن کے پاس نہیں پہنچا تو وہ بھی عہد یداروں کے پاس نہ پہنچیں بلکہ مرکز میں آکر اپنا چندہ جمع کرا دیں۔تاکہ ان عہدیداروں کو بھی یہ پتہ لگ جائے کہ کتنے پیارے دل تھے جن کی اُنہوں نے قدر نہیں کی اور کتنی حسین ارواح تھیں جن کے حسن کو اُنہوں نے نظر انداز کر دیا۔وہ اپنے کاموں میں لگے رہے۔اُنہوں نے اپنے دُنیوی آرام کی طرف توجہ دی اور