خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 137 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 137

خطبات ناصر جلد چہارم ہوتا ہے۔۱۳۷ خطبہ جمعہ ۲۴ / مارچ ۱۹۷۲ء دل ریش رفتہ بکوئے دگر تحسین و لعن جہاں بے خبر پس یہ خدا تعالیٰ کے عشق میں مست ہونے کی جو حقیقت ہے اسی کی طرف اِنْ تَنْصُرُوا اللهَ میں اشارہ کیا گیا ہے یعنی اگر تم اسی فدایا نہ ذہنیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرو گے اور کچھ ادھر اور کچھ اُدھر نہیں جاؤ گے (انہی آیات میں آگے یہ کہا گیا ہے، ان کی میں نے اس وقت تلاوت نہیں کی ان کا مفہوم بیان کر رہا ہوں کہ تم یہ نہیں کہو گے کہ ہم کچھ باتوں کی اطاعت کریں گے اور کچھ میں اپنی مرضی چلائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم کچھ باتوں میں اپنی مرضی چلاؤ گے اور کچھ میں میری اطاعت کرو گے تو میری ساری لعنت تم پر پڑے گی۔فرماتا ہے میں یہ نہیں کہوں گا کہ کچھ میری رحمت سے حصہ لے لو اور کچھ میرے قہر اور غضب سے حصہ لے لو۔پس اس ذہنیت کا پیدا ہونا جس کی طرف اِنْ تَنْصُرُوا اللہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔بڑا ضروری ہے خصوصاً ایک احمدی کے لئے بڑا ضروری ہے اور احمد یوں میں سے اس گروہ کے لئے بڑا ضروری ہے۔جنہوں نے خدا تعالیٰ سے ایک نیا عہد باندھا ہے کہ ہم اپنی زندگیاں تیرے دین کے لئے تیری راہ میں وقف کرتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اِن تَنْصُرُوا اللہ میں جس ذہنیت کی طرف اشارہ ہے اس کی مزید تشریح اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے طَاعَةٌ وَقَوْلُ مَعْرُوفٌ۔کامل اطاعت کرنی ہے اور بے چون و چرا اطاعت کرنی ہے اور نیکی کی باتیں کر کے خدا تعالیٰ کی محبت کو دلوں میں پیدا کرنا ہے۔قول معروف میں نیک باتوں کے پھیلانے کے معنے بھی آتے ہیں۔اشاعت قرآن کے معنے بھی آتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے متعلق اور بنی نوع انسان کے متعلق نیک باتیں کرنے کے معنے بھی پائے جاتے ہیں۔پس قول معروف کے صرف نیکی کی باتوں کو پھیلانے کے معنے نہیں جس طرح کہ ہم عام طور پر کہتے رہتے ہیں کہ نماز پڑھنی چاہیے۔وضو کے ساتھ پڑھنی چاہیے شرائط کے ساتھ پڑھنی چاہیے،