خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 120 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 120

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۲۰ خطبہ جمعہ ۱۷ / مارچ ۱۹۷۲ء جائزہ لیں اور اپنے حالات کے مطابق اس غرض کے لئے رقم خرچ کریں۔دوسرا سامان بھی ہے کچھ وہ بھی خریدیں اور پھر اگلے سال ( بعض اداروں کا آٹھ نو مہینوں کے اندرا گلا سال آ جاتا ہے بلکہ سبھی کا آجاتا ہے ) اور خریدیں۔پھر جو کمی رہ جائے گی اسے ہم پورا کر دیں گے۔کچھ ٹیوب ویل بھی لگانے پڑیں گے۔بہر حال پوری جد و جہد سے تم ربوہ کی شکل اس نیت سے بدل دو کہ باہر سے آنے والے دوست اسے دیکھ کر یہ کہہ سکیں کہ صفائی اور نفاست کے لحاظ سے اسلام نے کسی شہر کا جو معیار مقرر کیا ہے ربوہ اس پر پورا اترتا ہے اور ساتھ ہی یہ نیت بھی ہونی چاہیے کہ ہم اپنی صحتوں کو برقرار رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد ہونے والی بڑی عظیم اور بڑی بھاری ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکیں۔آخر غلبہ اسلام کی ذمہ داری کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے۔ساری دنیا سے روحانی جنگ لڑی جارہی ہے۔اس لئے ہمارا یہ پختہ عزم ہونا چاہیے کہ اس ذمہ داری کو نباہنے کے لئے ہم اپنی جسمانی اور ذہنی قوتوں کو پوری طرح صحت مند رکھیں گے تا کہ ہم تبلیغ واشاعت اسلام کا زیادہ سے زیادہ بوجھ اٹھا سکیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کیلئے زیادہ سے زیادہ محنت کر سکیں۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ صحت کے قیام کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بیماری نہ آئے اور اگر کوئی ایسی بیماری ہو جس کے کیڑوں کا ایک انسان کے جسم میں ہونا ضروری ہو یا جس کے کیڑوں کا روحانی جماعت کے وجود میں رہنا ضروری ہو تو اس کا کوئی بداثر اُس انسان کے جسم یا روحانی جماعت کے وجود پر نہ پڑے غرض یہ امر بھی صحت کے قیام کے لئے ضروری ہے اور اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا کے ہر لحاظ سے ہم پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ ہم ہر قسم کے نفاق سے بچیں۔کیونکہ نفاق کی بیماری ہمارے اُس خدا سے جو رب العلمین ہے دور لے جانے والی ہے۔نفاق زدہ آدمی اپنے رب کی بجائے دوسری جگہ اپنے سہاروں کی تلاش کرتا اور نا کام ہوتا ہے۔کیونکہ خدائے رب العلمین کے سوا اس کی مخلوق کے لئے اور کوئی سہارا نہیں ہے۔پس یہ عرفان حاصل کرنا کہ اللہ تعالیٰ واقع میں ہمارا رب ہے ( یعنی جیسا کہ وہ چاہتا ہے ہم