خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 113 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 113

خطبات ناصر جلد چہارم ۱۱۳ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء اور نہ اب ڈرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے میری فطرت کو کچھ ایسا بنایا ہے کہ میں موت سے کبھی نہیں ڈرا۔مجھے اس کا کبھی خیال ہی نہیں آیا۔۴۷ء میں میں نے کام کیا ہے اس وقت میں نے آگ کے اندر چھلانگیں لگائی ہیں اور ایک لحظہ کے لئے بھی میرے دل میں یہ خوف نہیں پیدا ہوا کہ کہیں یہ آگ مجھے جلا نہ دے۔زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔جب تک وہ چاہے گا زندہ رکھے گا اور جب چاہے گا اُٹھا لے گا۔یہ نہ میرے اختیار میں ہے اور نہ میرے دشمن کے اختیار میں ہے۔نہ میں اپنی مرضی سے اپنی عمر بڑھا سکتا ہوں اور نہ میرا دشمن اپنی مرضی سے میری عمر گھٹا سکتا ہے۔اس لئے موت تو اپنے وقت پر آئے گی لیکن ہو سکتا ہے کہ اُن کا کوئی اس قسم کا منصو بہ بھی ہولیکن نہ میں ڈرتا ہوں اور نہ آپ اپنے دل میں کوئی خوف اور دہشت پیدا کریں۔تا ہم میں ربوہ کی بہنوں اور بھائیوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آج تمہاری عزت اور غیرت کو للکارا گیا ہے۔اس عورت کو ہاں اس عورت کو جس نے اپنے عروسی کے زیورات بھی خدا تعالیٰ کا نام بلند کرنے کے لئے اور مساجد کی تعمیر کے لئے چندوں کے طور پر دے دیئے اور جس کی محنتوں کے نتیجہ میں یورپ کے مختلف ممالک میں مساجد کے مینار سے خدائے واحد و یگانہ کی کبریائی کا اعلان کیا جاتا ہے اے جاہلو اور ظالمو! اُس عورت کو تم غیر فطری فعلوں اور مردوزن کے ناجائز تعلقات کی آماجگاہ کہتے ہو یا اس آماجگاہ میں رہنے والی کہتے ہو یا اُسے اس کا حصہ دار بناتے ہو؟ اُس نے تو اپنی محبوب ترین چیزیں بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں قربان کر دیں اور خدا تعالیٰ کے پیار کا حسن اس کے ماتھے پر چمک رہا ہے اور اس کی آنکھوں سے خدا تعالیٰ کے نور کی شعاعیں نکل رہی ہیں اور اے اندھو! تم اُس ماتھے اور اُن آنکھوں میں بدفعلیوں اور غلط قسم کے افعال اور گناہوں کے دھبے دیکھتے ہو؟ پھر یہاں کے رہنے والے وہ مرد جو دین کی خاطر اور جو اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں اور اس مرکز میں سکون ، امن اور سلامتی پاتے ہیں اور جن میں سے بعض بے دھڑک ہوکر یہاں اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں اور خود دُنیا کمانے کے لئے باہر چلے جاتے ہیں اور پھر وہ بھی ہیں کہ جب وقت آتا ہے تو اپنے جن بچوں سے وہ بے انتہا پیار کرتے ہیں ان بچوں کے پیار کو بھول جاتے ہیں۔وہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے سلسلہ اور قرآن اور