خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 110
خطبات ناصر جلد چہارم 11+ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء پانچ دن تک بھو کے زندہ رہ سکتے ہو خلافت کرو۔پھر ہم ایک اور خلیفہ بنالیں گے پھر چار پانچ دن اس کو بھوکا رکھ کر ماریں گے پھر اور خلیفہ بنالیں گے تو ٹھیک ہے اس طرح کرو۔لیکن میں نے یہ کہہ دیا ہے کہ مجھے تو کوئی ضرورت نہیں۔جس کی مجھے ضرورت تھی اُس نے مجھے فرمایا ہے کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔پھر میں آپ کی کیسے ضرورت محسوس کروں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا غالباً یہ حوالہ میں نے پہلے نہیں پڑھا۔فرماتے ہیں:۔میں کسی کا خوشامدی نہیں۔مجھے کسی کے سلام کی بھی ضرورت نہیں اور نہ تمہاری نذور اور پرورش کا محتاج ہوں اور خدا تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ ایسا وہم بھی میرے دل میں گزرے۔میں جس کا محتاج ہوں اور جو میری ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہے وہی میرے لئے کافی ہے اس کے علاوہ مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ہفتم۔آج یہ لمبا خطبہ ہوگا کیونکہ ضروری ہے اب آخر میں میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں اس پر شاید زیادہ وقت لگ جائے۔جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حضرت خلیفہ اول کے بچوں کو ایک لمبا عرصہ چشم پوشی کے بعد جماعت کو فتنے سے بچانے کے لئے علیحدہ کیا تھا تو اس وقت جو دشمنانِ خلافت تھے، اُنہوں نے بہت کچھ فتنے پیدا کئے۔بڑے ہاتھ پاؤں مارے۔خلافت کو نقصان پہنچانے کی بڑی کوشش کی۔غلبہ اسلام کے لئے ساری دنیا میں جو ایک عظیم حرکت اور جد و جہد ہو رہی تھی اس کے راستے میں روک بننے کی کوشش کی۔چنانچہ اُس موقع پر ایک غیر مبائع دوست نے یہاں تک لکھ دیا۔یہ الفاظ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ہیں اور ان غیر مبائعین کی طرف اشارہ ہے آپ فرماتے ہیں:۔اور اُن میں سے ایک شخص محمد حسن چیمہ نے بھی ایک مضمون شائع کیا ہے کہ ہمارا نظام ( یعنی غیر مبائعین کا نظام ) اور ہمارا سٹیج اور ہماری جماعت تمہاری مدد کے لئے تیار ہے۔شاباش ! ہمت کر کے کھڑے رہو۔مرزا محمود سے دینا نہیں۔اس کی خلافت کے