خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 109
خطبات ناصر جلد چہارم 1۔9 خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء کے حالات کے لحاظ سے یقین تھا کہ اگلے پانچ دس سال تک وہ رقم واپس نہیں کر سکتا مگر میں کیا دیکھتا ہوں کہ شام کے وقت میرے وہی بھائی صاحب میرے پاس آکر کہہ رہے ہیں۔بھائی یہ لیں اپنی رقم۔اب میں اس کا منہ دیکھوں اور پتہ نہیں میں نے کس طرح اپنے جذبات پر قابو پایا کیونکہ میں نے دعا کی تھی اے خدایا! میں نے کسی بندے کا محتاج نہیں ہونا۔تو میرے لئے اپنے فضل سے سامان پیدا فرما کیونکہ تیرا مجھ سے وعدہ ہے۔چنانچہ اسی رنگ میں میری دُعا قبول ہوگئی۔یہ تو ایک چھوٹی سی مثال ہے جس میں کچھ ظاہر کا بھی رنگ ہے وہ میں نے بتا دی ہے باقی تو چونکہ خدا تعالیٰ وراء الوری اور غیب الغیب ہستی ہے وہ وراء الورٹی اور غیب الغیب دروازے کھولتی ہے آپ ان چیزوں کو نہیں سمجھ سکیں گے۔بہر حال میرے لا محدود ذرائع ہیں۔مجھے پیسے کی کبھی فکر نہیں ہوئی اور جو خدا دیتا ہے اس میں سے جتنی توفیق ملتی ہے اپنے ضرورت مند احمدی بھائیوں کو دیتا ہوں اور ان پر میں احسان نہیں جتا تا بلکہ اُن کے ساتھ کبھی ذکر تک نہیں کیا۔اگر وہ سامنے آجا ئیں تو آپ میری آنکھوں میں کوئی اشارہ بھی نہیں دیکھیں گے۔اس لئے کہ میں اس بندے کو خوش کرنے کے لئے نہیں دے رہا میں تو اپنے مالک، اپنے مولیٰ ، اپنے پیار کرنے والے رب العزت کو خوش کرنے اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے دے رہا ہوں۔میں نے آج مجبوراً اس کا کچھ تھوڑا سا حصہ جو ظاہر ہوسکتا تھا وہ یہاں کر دیا ہے لیکن اس کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جو ظاہر نہیں ہو سکتے اور نہ ظاہر کئے جائیں گے۔بہر حال یہ تو ان منافقین کا دماغی نقص ہے کہ خلیفہ کے الاؤنس کا مشاورت فیصلہ کرے۔پھر کہا مشاورت فیصلہ نہ کرے ہم خود فیصلہ کرتے ہیں۔۳۰۰ ماہوار الاؤنس دیں گے۔ہم بھی اپنا فیصلہ بدلتے ہیں ایک دھیلہ بھی الاؤنس نہیں ملے گا، نہ صرف ایک دھیلہ نہیں ملے گا۔ساری جائیدا دوا پس لے لینی چاہیے۔جائیداد تو مجھے ورثہ میں ملی یا جائیداد کچھ تھوڑی سی ایسی ہے کہ جو تھوڑی سی زمینیں قادیان میں خریدی تھیں۔کام میں خیال ہی نہیں رہا۔بارہ تیرہ ایکٹر کی بجائے تین ایکٹر کے کاغذ بچے۔باقی یہاں پارٹیشن کے بعد ضائع ہو گئے۔تین ایکٹر زمین ہے وہ بھی جائیداد میں آگئی نا۔ساری جائیداد لے لو دھیلہ کوئی نہ دو اور جائیداد ساری لے لو، کمانے پر پابندی لگا دو اور کہو تم چار