خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 107
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۰۷ خطبہ جمعہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۷۲ء لیا تھا اس کا پچاس فیصد سے بھی کہیں کم میں نے عملاً وصول کیا ہے اور جتنا وصول کیا ہے اس سے کہیں زیادہ میں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے خرچ کرنے کے متعلق جو مجھے ستر أ کا حکم ہے اس پر خرچ کیا ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فرمایا ہے کہ میں تمہارا محتاج نہیں ہوں۔حضرت خلیفہ ثانی نے بھی یہی فرمایا تھا اور میں بھی یہی کہتا ہوں کہ میں تمہارا محتاج نہیں ہوں۔تمہیں کس احمق نے کہا ہے کہ مجھے نذرانہ دیا کرو یا میرا الاؤنس مقرر کیا کرو۔تم نے کہا ہمارا دل دکھے گا اور بعد میں آنے والے خلفاء کے لئے تکلیف ہوگی اس لئے میں نے تمہاری بات مان لی اور تمہیں آج تک یہ بھی نہیں بتایا کہ میں وہ سارا لے بھی نہیں رہا۔پچاس فیصد سے بھی کہیں کم لے رہا ہوں تا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ یہ ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔تمہارا تو میں نے اتنا خیال رکھا مگر تمہارے اندر جو چند ایک منافق ہیں اُن میں سے کوئی کہتا ہے تین ہزار اور کوئی کہتا ہے اڑھائی ہزار روپے ماہانہ تعقیش کے سامان کے لئے وصول کر رہا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ جتنا میں وصول کرتا ہوں خدا تعالیٰ اس سے زیادہ مجھے سزا خرچ کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔جس کے متعلق کسی کو پتہ ہی نہیں ہوتا۔یہاں تک کہ میری بیوی کو بھی کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ میں کس کو دیتا ہوں لیکن جو اعلانیہ خرچ ہے وہ آپ میں سے بعض جانتے ہوں گے۔اسے میرے گھر سے بھی جانتے ہیں لیکن میں اپنے بھائی پر سات آٹھ ہزار روپے ماہانہ ایسا بھی خرچ کرتا ہوں جس کے متعلق میرے سوا کسی کو پتہ تک نہیں ہوتا اور یہ میں اپنے بھائی کو اس کا حق دینے کے لئے خرچ کرتا ہوں۔اس کے اوپر میرا کوئی احسان نہیں ہوتا کیونکہ میں تو خدا تعالیٰ کی رضا کا طالب ہوں۔پس جہاں تک میرا خرج کا تعلق ہے اسے صرف میں جانتا ہوں۔اگر میں نے دفتر کے ذریعہ بھی بھجوانا ہوتا ہے تب بھی خود ہی لفافہ بند کرتا ہوں اور خود ہی اس کے اوپر پتہ لکھتا ہوں اور کوشش کرتا ہوں اور عام طور پر اس میں کامیاب بھی ہو جاتا ہوں کہ دس روپے کا نوٹ نہ ہوتا کہ اگر زیادہ روپے دینے ہیں تو سو روپے کا نوٹ ہوتا کہ کسی کو پتہ ہی نہ لگے کہ اس کے اندر کوئی نقدی