خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 104
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۰۴ خطبہ جمعہ ۱۰؍ مارچ ۱۹۷۲ء خلیفہ کی تنخواہ کے سکیل کے متعلق اُنہوں نے تیسرے نمبر پر یہ کہا کہ موجودہ خلیفہ کو صرف ۳۰۰ماہوار الاؤنس دیا جائے۔پہلے یہ کہا کہ شوری مقرر کرے۔پھر کہا کہ شوری کو بھی اختیار نہیں ہونا چاہیے۔ہم الاؤنس مقرر کرتے ہیں۔اس لئے موجودہ خلیفہ کو صرف ۳۰۰ ماہوار الاؤنس دیا جائے۔غرض ایک خط میں تو انہوں نے یہ لکھا کہ موجودہ خلیفہ کو ۳۰۰ ماہوار ” ہمارے“ کہنے کے مطابق دیا جائے۔شوریٰ کو بھی اختیار نہیں۔ہم یعنی جماعت منافقین نے شوری سے اختیار واپس لے لیا ہے۔مگر دوسرے خط میں یہ لکھ دیا ( دوخط Cyclostyle (سیکلو سٹائل ) کئے ہوئے اُنہوں نے یہاں پندرہ میں آدمیوں کو لکھے ہیں جو ہمارے علم میں ہیں اور یہ پوائنٹس میں نے انہیں خطوط سے لئے ہیں کہ موجودہ خلیفہ کا الاؤنس بالکل بند کر دیا جائے کیونکہ ذرائع آمد لا محدود ہیں۔اس واسطے پہلے تو شوری سے ۳۰۰ مقرر کر کے اس کا حق واپس لے لیا ( یہ میں ان کی باتیں کر رہا ہوں ) یعنی پہلے جماعت منافقین نے شوری کو یہ حق دیا کہ وہ حالات کے مطابق خلیفہ وقت کا کوئی گزارہ یا الاؤنس مقرر کرے۔پھر کہا کہ نہیں ہم تمہارا حق واپس لے کر خود ہی ۳۰۰ مقرر کر دیتے ہیں۔پھر کہا کہ نہیں ہم اپنا یہ فیصلہ بھی بدلتے ہیں خلیفہ وقت کو کوئی الاؤنس نہ دیا جائے کیونکہ اس کے ذرائع آمد لا محدود ہیں۔یہ لامحدود کے لفظ پر میں زور دے رہا ہوں۔اسے یا درکھنا کیونکہ اس کے متعلق بھی میں آگے کچھ بتانا چاہتا ہوں۔پھر کہنا کہ نہ صرف یہ کہ الاؤنس نہ دیا جائے بلکہ موجودہ خلیفہ اپنی ساری جائیداد انجمن کو دے دے۔غرض الاؤنس کے طور پر اُسے ایک پیسہ نہ دیا جائے اور جائیدادساری چھین لی جائے اور تیسرے یہ کہ موجودہ خلیفہ کو ( اور پہلے دو جو گزر چکے ہیں یعنی حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ اور حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے بھی غلطی کی ) کمانے کی اجازت نہ دی جائے۔مطلب یہ ہے کہ کمائی کے سارے ذرائع محدود کر دیئے جائیں۔ان کی جائیداد لے لی جائے اور پیسہ ان کو کوئی نہ دیا جائے اور کہا جائے کہ خوب شان کے ساتھ جماعت احمدیہ کی خلافت اور امامت کرو۔پس یہ سارے بہکے ہوئے خیالات ہیں۔خود ہی بیوقوف اور اندھے ہیں۔منافق بھی اندھا ہوتا ہے اگر منافق کا مقام ” دَرْكِ آسفل میں ہے تو گویا وہ ایک کافر سے بھی زیادہ نیچے ہے تو