خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 94
خطبات ناصر جلد چہارم ۹۴ خطبہ جمعہ ۱۰ / مارچ ۱۹۷۲ء بھیرہ کا رہنے والا خلیفہ ہو گیا۔کوئی کہتا ہے کہ خلیفہ کرتا ہی کیا ہے؟ لڑکوں کو پڑھاتا ہے۔۔۔کوئی کہتا ہے کہ کتابوں کا عشق ہے۔اسی میں مبتلا رہتا ہے ہزار نالائقیاں مجھ پر تھو پو۔مجھے پر نہیں یہ خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔اب میں بھی یہی کہتا ہوں کہ مجھے بھی خدا نے خلیفہ بنایا ہے جو نالائقیاں تم مجھ پر تھوپنے کی کوشش کرو گے وہ تم دراصل مجھ پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات پر اعتراض کر رہے ہو گے پھر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔اگر کوئی کہے کہ انجمن نے خلیفہ بنایا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔اس قسم کے خیالات ہلاکت کی حد تک پہونچاتے ہیں۔تم اُن سے بچو۔پھرٹن لو کہ مجھے نہ کسی انسان نے ، نہ کسی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں کسی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے پس مجھ کو نہ کسی انجمن نے بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا اور اُس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ اب کسی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت کی ردا ء کو مجھ سے چھین لے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں:۔” خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اُس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں تم خلافت کا نام نہ لو۔مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔اگر تم زیادہ زور دو گے تو یا درکھو میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں جو 166 تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ کے بھی بہت سے حوالے ہیں کیونکہ آپ ہی کے زمانہ خلافت میں غیر مبائعین نے زیادہ تر خلافت کی بحثیں چھیڑی تھیں۔میں آپ کا ایک ہی حوالہ لیتا ہوں اور اس ضمن میں الفضل کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ وہ یہ حوالے اخبار میں بار بار چھاپتے رہیں تاکہ نئی