خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 63

خطبات ناصر جلد چہارم ۶۳ خطبہ جمعہ ۲۵ فروری ۱۹۷۲ء جن کا تعلق ایک دن کے ساتھ ہے بعض دینی منصوبے اس قسم کے ہیں جن کا تعلق سال میں ایک مہینے کے ساتھ ہے۔اب مثلاً نماز ہے، اس کا دن کے اوقات کے ساتھ تعلق ہے دن بھی پورا نہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک دن کی نماز پڑھنی ہے بلکہ فرمایا کہ دن میں پانچ دفعہ لازماً اور چھٹی دفعہ پیار کے جوش میں پڑھنی ہے ( دن میں پانچ نمازوں کے بعد رات کو ہم تہجد کی نماز ادا کرتے ہیں) یہ گویا دن (۲۴ گھنٹے ) کا ایک دور ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما تا کہ ایک دن با قاعده صبح دوپہر ، عصر شام اور عشاء اور پھر تہجد کی نماز پڑھ لو اور پھر آرام سے بیٹھ جاؤ یہ کہتے ہوئے کہ ہمارا جو کام تھا وہ ختم ہو گیا۔فرمایا یہ نہیں تمہارا کام فرغت کے مطابق پورا بھی کیا گیا ہو یعنی اس کے ساتھ جو ذیلی چیزیں تھیں ان کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔مثلاً تم نے ہر نماز کے ساتھ نفل بھی پڑھے ہوں۔نمازوں سے پہلے بڑی احتیاط کے ساتھ وضو بھی کیا ہو۔نمازوں میں خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں بھی کی ہوں۔پھر رات کو تہجد کی نماز بھی ادا کی ہو اس طرح گویا نماز کے لحاظ سے دن کی ذمہ داری کے سارے اجزاء پورے ہو گئے لیکن اس پر تمہاری ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اگلے دن کی جب پو پھوٹی تو وہ تمہارے لئے نئی ذمہ داریاں لے کر آئی اور مثلاً نمازوں کے لحاظ سے ایک نیا دور شروع ہو گیا۔تا ہم روزے کے لحاظ سے تو نیا دور شروع نہیں ہوا اس کے لئے تو آپ کو گیارہ مہینے انتظار کرنا پڑتا ہے۔پھر ایک مہینہ رمضان کی عبادت کا ہے۔یہ بھی ایک دوسری قسم کی عبادت کا دور ہے۔پھر جب آپ ایک مہینے کا یہ دور پورا کر لیتے ہیں تو یہ نہیں کہتے کہ اللہ قسم ! اب میں ساری عمر روزے نہیں رکھوں گا کبھی کسی مومن کے دل سے یا اس کی زبان سے یہ آواز نکلی ہے؟ اس لئے نہیں نکلی کہ اسے پتہ ہے کہ میری زندگی کا ایک دور یا ایک منصو بہ سال کے ایک مہینے کے ساتھ تعلق رکھتا تھا وہ ختم ہو گیا اب دوسرا منصوبہ اگلے سال کے لئے شروع ہو گیا ہے۔اس سے ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ ہمیں رمضان کے لئے گیارہ مہینے تیاری کرنی چاہیے۔پھر اس کا Climax (کلائمیکس ) اس کی انتہا اور اس کا انجام رمضان کے مہینے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔