خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 603
خطبات ناصر جلد چہارم ۶۰۳ خطبہ جمعہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۷۲ء پس اس جمعہ میں جو جلسہ کے دو جمعوں میں سے پہلا ہے بعض باتیں میں نے بتادی ہیں۔ایک بات میں دہرا دیتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ہمیشہ مسکراہٹ کھیلتی رہتی تھی آپ لوگ بھی چونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی پر فخر کرنے والے ہیں۔آپ کے چہروں پر بھی ہمیشہ مسکراہٹ رہنی چاہیے۔خصوصاً اس وقت جب کہ دنیا کے بڑے بڑے بہادروں کے چہروں پر انقباض کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔آپ کے چہروں پر اس وقت بھی مسکراہٹیں ہی کھیلتی رہنی چاہئیں کیونکہ حضرت نبی اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر مسکراہٹ رہتی تھی۔آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس شخص کو ایک دفعہ بشاشت ایمانی عطا فرمائے۔وہ شیطان کے کامیاب حملوں سے محفوظ ہو جاتا ہے (شیطان کے حملے تو ہوتے رہتے ہیں لیکن وہ بالعموم کامیاب نہیں ہوتے ) تو وہ بشاشت در اصل یہ مسکراہٹ ہے جو چہروں پر کھیلتی رہتی ہے۔یہ مسکراہٹ جہالت کا نتیجہ نہیں ہوتی یہ مسکراہٹ غرور اور تکبر کا نتیجہ نہیں ہوتی۔یہ مسکراہٹ کم نمی کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ یہ وہ مسکراہٹ ہوتی ہے جو بچے کے مونہہ پر اس وقت آتی ہے جب وہ اپنی ماں کی گود میں بیٹھا ہوا اس کے پیار کو حاصل کر رہا ہوتا ہے۔پس وہ مسکراہٹ ہر وقت آپ کے چہروں پر بھی رہنی چاہیے کیونکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا ہے اور اس نے تمہیں کہا کہ اگر آگ بھی بھڑ کائی جائے گی تو اس سے ڈرنا نہیں کیونکہ ہم نے اس آگ کو تمہارا غلام بنا دیا ہے۔پس دیکھو اللہ تعالیٰ ہم سے کتنا پیار کرنے والا ہے اس لئے ہمیشہ ہمارے چہروں پر مسکراہٹ رہنی چاہیے۔اس جلسہ کے موقع پر خصوصاً اس بات کا خیال رکھیں۔آنے والوں سے مسکرا کر باتیں کریں۔مسکرا کر ان کے کام کریں اور جس کو تھوڑی بہت ضرورت پڑے اس کی ضرورت کو مسکراہٹوں کے جھرمٹ میں لے آئیں تو وہ وہیں تسلی پا جائے گا کوشش بھی کریں۔میں نے دوبارہ یاد دہانی کرا دی ہے۔میں دعا تو کرتا ہی رہتا ہوں جمعہ میں بھی کروں گا۔اب اس وقت بھی زبانی چند دعائیہ فقرات کہہ دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ہی یہ توفیق دیتا چلا جائے کہ ہمارے چہروں سے دنیا کا کوئی منصو بہ اور تدبیر مسکراہٹیں نہ چھین سکے اور اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جس مقصد کے حصول کے لئے پیدا کیا ہے اس میں اسے کامیاب کرے اور وہ دن جلد آئے جب ساری دنیا میں اسلام پھیل