خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 597
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۹۷ خطبہ جمعہ ۲۲ / دسمبر ۱۹۷۲ء جس وقت مسجد اقصیٰ بن رہی تھی تو ہمارا خیال تھا کہ سامنے کا صحن نمازیوں کے لئے کافی ہوگا لیکن بہت سی ضرورتیں نظر انداز کر کے مشکل سے اس دفعہ بیچ میں سے ایک جگہ نکالی گئی ہے اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ مسجد کا صحن بڑا ہو اس لئے ہمیں مسجد کا موجودہ صحن آگے لے جانا پڑے گا۔یہ ٹھیک ہے کہ عام جمعوں کے موقعوں پر گو یہ مستقف حصہ بھر جاتا ہے لیکن صحن والا حصہ پوری طرح نہیں بھرتا لیکن ہماری بہنوں کو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ان کے لئے اوپر گیلری میں جو جگہ بنائی گئی تھی وہ ان کے لئے ناکافی ہے۔پچھلے یا پچھلے سے پچھلے جمعہ ان کے لئے نیچے صحن میں قناتیں لگا کر جو جگہ بنائی گئی تھی وہاں ان کو خطبہ کی آواز ہی سنائی نہیں دیتی تھی وہ اس پر بڑی سیخ پا ہو ئیں اور ان کا گلہ جائز تھا کہ نظارت اصلاح وارشاد نے ہمارے لئے جگہ تو بنا دی لیکن آواز پہنچانے کا کوئی انتظام ہی نہیں کیا غرض سامنے باہر جو کھلا میدان ہے (جس میں اس وقت جلسہ گاہ بن رہی ہے ) یہ تو مسجد کا حصہ بن جائے گا۔ممکن ہے یہ جو موجودہ شکل ہے آئندہ جو مسجد بنے اس کا نصف حصہ یہ ہو اور نصف ہمیں اور بنانا پڑے۔اس لئے یہ جگہ تو جلسہ گاہ کے لئے ٹھیک نہیں دوسرے جیسا کہ وہ سٹیڈیم جو میرے ذہن میں ہے اور جس کا میں نے اظہار بھی کیا ہے۔یعنی دو اڑھائی لاکھ سے زیادہ سامعین کے بیٹھنے کی جگہ ہونی چاہیے اس کے لئے زمین بھی زیادہ درکا ر ہے۔سر دست جگہ کا انتخاب کر کے کام شروع کر دینا چاہیے۔مینارة اسبح بال بنانے کی تجویز شورای میں پاس ہو چکی ہوئی ہے۔اس مد میں کچھ پیسے جمع بھی ہوئے تھے وہ موجود ہیں۔گو تھوڑے سے ہیں لیکن بڑی برکت والے پیسے ہیں۔بڑی دیر سے خزانے میں پڑے برکتیں سمیٹ رہے ہیں غرض اس جمع شدہ رقم کے ذریعے انشاء اللہ کام کی ابتدا ہو جائے گی۔پس جماعت کو اس سٹیڈیم کی تعمیر کی طرف جنوری میں عملی اقدام کرنا چاہیے ورنہ پھر بھول جائیں گے۔میں یہ نہیں چاہتا کہ آئندہ سال جلسہ سالانہ کے دو جمعوں میں سے پہلے جمعہ میں پھر مجھے اسی قسم کی باتیں جماعت کے سامنے پیش کرنی پڑیں۔اس لئے کام شروع کر دینا چاہیے کیونکہ جو کام شروع ہو جاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ختم بھی ہو جایا کرتا ہے۔لیکن کام شروع ہی نہ