خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 568 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 568

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶۸ خطبه جمعه ۸ /دسمبر ۱۹۷۲ گے۔کیونکہ کنواں کھودتے ہیں۔اینٹوں سے اس کو بناتے ہیں تب جا کر بجلی کا پمپ لگاتے ہیں۔یہ کام محلہ نے خود کرنا ہے یعنی ہم نے کچی پکائی روٹی آپ کے منہ میں نہیں ڈالنی جس طرح بھائی بھائی کی مدد کرتا ہے اس طرح مدد ہو گی جس طرح ماں دودھ پیتے بچے کی مدد کرتی ہے اس طرح کی مدد نہیں ہوگی۔کیونکہ ہمارے نزدیک آپ کی عمر اللہ تعالیٰ کی طاقت اور آپکے جذ بہ فدائیت کے لحاظ سے دو مہینے یا سال یا دو سال کے بچے سے زیادہ ہے آپ ایک حد تک اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں آپ کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے لیکن اگر حالات اس کی اجازت نہ دیں تب تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِ وَالتَّقْوى (المائدة : ۳) کے حکم کے ماتحت مرکز آپ کے ساتھ تعاون کرے گا لیکن اصل یہ چیز ہے کہ یہ کام آپ وقار عمل کے ماتحت کریں آپ کنواں خود کھو دیں اور مٹی نکالیں اور اینٹیں مہیا کریں محنت کے ذریعہ جتنی رقم بچا سکتے ہیں وہ بچا ئیں جو نہیں بچا سکتے وہ جمع کریں پھر اس کے بعد اگر آپ کے اندر مزید طاقت نہ ہوئی تو اس صورت میں مرکز آپ کے لئے نل اور اس کا پمپ اور اس کے لئے بجلی کی موٹر جو بھی وہاں چھوٹی قسم کی لگ سکتی ہے دو اڑھائی انچ کی کافی ہوگی اب یہ پاکستان میں بڑی اچھی بننے لگ گئی ہیں تو اس قسم کا بجلی کا کنواں لگا دیا جائے گا پھر اس کو سنبھالنا، نقصان سے بچانا، روز مرہ کے خرچ بر وقت کرنا یہ بھی محلہ کا کام ہے۔ہم اتنی مدد کر سکتے ہیں۔دو تین بلکہ پانچ چھ کنویں لگتے ہوں تو میرے خیال میں اس سال لگ سکتے ہیں۔پہلے دو محلوں کے لئے اب دقت پیدا ہوگئی ہے کیونکہ اگر انہوں نے سستی دکھائی تو دوسرے محلے اولیت لے جائیں گے وہ کہیں گے کہ ہم نے کام کر دیا پہلے ہمیں کنویں لگا کر دیں۔لیکن میرے نزد یک محله الف اور دارالعلوم کو زیادہ ضرورت ہے بہر حال یہ کام جو کرنے والے ہیں یہ اس طرح مل جل کر کر نے سے ہو سکتے ہیں اب بھی انشاء اللہ ہو جائیں گے مجھے افسوس ہے کہ پہلے اس طرف خیال نہیں آیا۔جب سے مجلس صحت کا کام شروع ہوا ہے اس وقت سے میں خود باہر نکل کر مختلف محلوں میں موقع پر جگہوں کو دیکھتا ہوں پھر پتہ چلتا ہے اور ضرورتوں کے مطابق نئے خیالات ذہن میں آتے ہیں۔تیسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مئی، جون ، جولائی اگست ستمبر، اکتوبر نومبر گزر گئے