خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 563 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 563

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶۳ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء تھا کیونکہ سیز فائر کے بعد محاذ کی شدت تو بہت کم ہو جاتی ہے۔جنگ تو ہو ہی نہیں رہی ہوتی۔اس وقت انسان کے خیالات ان چیزوں میں نہیں الجھتے۔تو وہ شخص جو گھمسان کی جنگ میں مشغول ہوتا ہے وہ کس طرح ادھر اُدھر دیکھ سکتا ہے۔ہم بھی چونکہ اس وقت اپنے آپ کو گھمسان کی جنگ میں پاتے ہیں ویسے ہماری تلواروں بندوقوں یا ایٹم کی جنگ تو نہیں ہے دلائل کے ساتھ اور دعاؤں کے ساتھ ہم خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔اس لئے اس گھمسان کی جنگ میں ہم ادھر ادھر کیسے دیکھ سکتے ہیں۔بہر حال قرآن کریم کے دلائل کے ذریعہ روحانی جنگ کی تیاری کے لئے ، تربیت حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نشانات کو سننے کے لئے اور اس کی رحمتوں کے حصول کی کوشش کے لئے ہم سب جلسہ سالانہ پر جمع ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو (اہل ربوہ کو بھی اور باہر سے آنے والے بھائیوں کو بھی ) ہر قسم کے دُکھ اور پریشانی اور فتنہ سے محفوظ رکھے اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کی برکتوں رحمتوں اور فضلوں کا وارث بننے کے سامان عطا فرمائے۔آج یکم دسمبر ہے۔یہ مہینہ چونکہ جلسہ سالانہ کی وجہ سے خصوصی دعاؤں کا مہینہ ہے اس لئے میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ دوست خاص طور پر دعائیں کرتے رہیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو جلسہ کی جملہ ذمہ داریوں کو نباہنے کی توفیق عطا فرمائے۔جملہ برکات کا حقدار ٹھہرائے۔روزنامه الفضل ربوه ۲۱ / مارچ ۱۹۷۳ء صفحه ۲ تا ۷ ) 谢谢谢