خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 560 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 560

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۶۰ خطبہ جمعہ یکم دسمبر ۱۹۷۲ء کانٹے کیا ہیں کچھ بھی نہیں ہیں۔پس ربوہ اس وقت ایک مرکزی نقطہ ہے اس عالمگیر مہم کا جس کے ذریعہ اسلام نے ساری دنیا پر غالب آنا ہے اس لئے یہاں تربیت کے لیے، آپس میں ملنے کے لئے ساری دُنیا میں اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ پر جو فضل نازل کر رہا ہے ان کے متعلق باتوں کو سننے کے لیے اور خلیفہ وقت کے ساتھ پختہ تعلق کا اظہار کرنے کے لئے کثرت سے آنا چاہیے ویسے تو ہر مومن کا امامِ وقت کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔مگر دوست یہاں آکر مل کر اور دیکھ کر ہی پیار کے تعلق کا اظہار کر لیتے ہیں کیونکہ سارے دوست تو مصافحہ نہیں کر سکتے۔نہ اتنا وقت ہوتا ہے اور نہ انسان کو اتنی طاقت دی گئی ہے کہ وہ ایک دن میں ۶۰ ہزار دوستوں سے مصافحے کر لے اس کے لئے وقت بھی چاہیے طاقت بھی چاہیے اور پھر اس غرض کے لئے دوستوں کو ایک لمبا عرصہ کھڑے رہنے کی ضرورت بھی ہے وغیرہ بہر حال دوست دیکھ لیتے ہیں آنکھوں کے ذریعہ ایک دوسرے کو دیکھ لیتے ہیں اور پیار دے دیتے ہیں آخر آنکھ بھی تو ایک دوسرے کو پیار دینے اور دعا کرنے کا ذریعہ ہے ایسے وقت تو جس طرح ایک پہاڑی چشمے سے پانی ابل ابل کر باہر نکل رہا ہوتا ہے اسی طرح ہمارے دوست جب ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں تو ہر احمدی کا دوسرے کے لئے اور جماعت کے امام کے لئے اور امام کا جماعت کے لیے پیار اور اخوت کے جذبات پھوٹ پھوٹ کر باہر نکل رہے ہوتے ہیں۔پس جماعت کے اس سالانہ اجتماع کے لئے ان دنوں خصوصاً بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے جس غرض کے لئے یہ جلسہ قائم ہوا ہے ساری جماعت اس غرض کے حصول کے لئے کوشاں رہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ جو برکتیں وابستہ کی ہیں ان برکتوں کو حاصل کرے اور وہ فضل اس کو ملے اور وہ پیار اس کو ملے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے۔وہ تو جہ سے باتوں کو سنیں اور اثر قبول کریں۔اپنی عادتیں چھوڑنی پڑیں تو چند دن کے لئے احباب کو دیکھ کر اور تقریروں کو سن کر چھوڑ دیں۔صبر کی عادت ڈالیں ابھی پیچھے افریقہ کے ایک ملک میں بعض متعصب عیسائی کیتھولکس کی سازش کے نتیجہ میں ہمارے بعض کلینک بند ہو گئے تھے۔وہاں سے دوستوں نے مجھے گھبراہٹ کے خطوط لکھے۔بہر حال اصل ذمہ داری تو امام کی ہوتی ہے۔دوست تو طبعاً گھبرا جاتے ہیں کہ دو مہینے ہو