خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 521 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 521

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۲۱ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء دیکھے ہیں اور ان کا حافظہ اچھا ہے ان کو یاد ہوگا کہ یہاں کلر کی وجہ سے ہر جگہ سفید ہی سفید نظر آتی تھی اب تو درخت اُگ آئے ہیں سایہ ہو گیا ہے کئی جگہ پھول بھی نظر آنے لگے ہیں اور انشاء اللہ ایک دو سال میں کئی دوسری جگہوں پر بھی پھول نظر آئیں گے اور پھر اس سے بھی نمایاں فرق نظر آئے گا۔یہ تو ایک مستقل کام ہے جو آہستہ آہستہ مکمل ہو رہا ہے۔پس جلسہ کے ایام میں احباب کو صفائی کی طرف خاص طور پر توجہ دینی چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جلسہ سالانہ کی کامیابی کے لئے دعاؤں پر بڑا زور دینا چاہیے۔دوست یہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کی نیت رکھنے والوں کو ہر طرح صحت سے رکھے اور ان کے لئے جلسہ میں شمولیت کے سامان پیدا کر دے۔اللہ تعالیٰ اہل ربوہ کو بھی صحت و عافیت سے رکھے اور انہیں تو فیق عطا فرمائے کہ وہ بہتر اور احسن رنگ میں خدا تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے روحانی فرزند جلیل مہدی معہود کے مہمانوں کی خدمت کر سکیں اور وہ ہر قسم کی ذمہ داریاں چوکس اور بیدار رہ کر ادا کر سکیں۔جلسہ سالانہ کے مہمانوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے نانبائیوں پر روز بروز بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔جلسہ سالانہ کے دنوں میں جو نانبائی یہاں آتے ہیں وہ سب الا ما شاء اللہ احمدی نہیں ہوتے۔یہ بھی ایک لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے کہ جلسہ سالا نہ کی وجہ سے ان کا ہمارے ساتھ ایک پرانا تعلق قائم ہے۔لیکن اب ان کی بساط کی بات نہیں رہی۔اسی لئے ہم نے دو تین سال سے روٹیاں پکانے والی مشین استعمال کرنی شروع کر دی تھی پہلے تجربہ کے طور پر اور پھر آج سے دو سال پہلے کافی بڑے پیمانے پر استعمال کی تھی۔اس سال غالباً ۱۶ نئی مشینیں لگ گئی ہیں گو یہ بھی کافی نہیں۔لیکن ان کا اتنا فائدہ ضرور ہے کہ اگر خدانخواستہ سارے تنور نا کام ہو جائیں تو اتنی روٹیاں پکا دیں کہ جیسا کہ ہم بعض دفعہ جلسہ سالانہ پر کیا کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ایک روٹی میں ہر ایک دوست کی سیری کے سامان پیدا کر دے گو ہماری کوشش یہی ہوتی ہے کہ ہر ایک دوست کو اس کا جو عام طریق ہے اور روزمرہ کا معمول ہے اس کے مطابق کھانا دیا جائے لیکن بعض دفعہ انتظام میں غیر متوقع خرابی کیوجہ سے تھوڑا