خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 517
خطبات ناصر جلد چہارم ۵۱۷ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء ہیں اور طلباء بطور رضا کا رخدمات انجام دیتے ہیں۔اب سکول اور کالج قومی تحویل میں چلے جانے کی وجہ سے نہ تعلیمی ادارے خالی ہوں گے اور نہ طلباء کو بطور معاون جلسہ میں بھجوایا جائے گا۔دراصل یہ مفروضہ ہی غلط ہے۔اس لئے اس سلسلہ میں گھبرانے کی کوئی وجہ نہیں جماعت احمد یہ تو ہرلحاظ سے عوام ہی کا ایک حصہ ہے۔یہ دنیا کی بھلائی کے لئے قائم ہوئی ہے۔ہر مسلمان کو الناس“ کی خدمت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور یہ الناس“ ہی ہیں جن کے لئے قرآن عظیم ا تارا گیا ہے۔پس ان دنوں عوامی حکومت کا بڑا چر چاہے حالانکہ یہ لفظ ”عوام“ دراصل الناس“ کا ترجمہ ہے۔کیونکہ الناس“ سے مراد بالعموم عوام لئے جاتے ہیں۔اس لئے جب ہر چیز ہے ہی’ الناس“ کی تو پھر اس کے راستے میں دنیا کی کوئی حکومت یا اس کی نئی پالیسی روک نہیں بن سکتی۔لہذا سکولوں اور کالجوں کے بچے اور بچیاں انشاء اللہ اسی طرح رضا کارانہ طور پر کام کریں گی جس طرح وہ سالہا سال سے کام کرتے چلے آئے ہیں اور عوام کی یہ عمارتیں بھی اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت میں پیش ہوں گی اور اپنی مہمان نوازی اور خدمت پیش کریں گی جس طرح پہلے کرتی چلی آئی ہیں جب کسی عمارت میں برکت کے کام کئے جاتے ہیں تو عمارتیں بھی برکت والی بن جاتی ہیں۔پس ایک تو یہ ذمہ داری ہے کہ رضا کار پوری طرح ( نوے فیصد بھی میں نہیں کہتا ) اور پوری تعداد میں انتظامیہ کو ملنے چاہئیں۔پوری تعداد سے میری یہ مراد ہے کہ جتنے زیادہ سے زیادہ رضا کارمہیا ہو سکتے ہوں اتنے ضرور ملنے چاہئیں۔علاوہ ازیں ایک بڑی ذمہ داری جلسہ کے دنوں میں باہر سے آنے والے مہمانوں کیلئے اپنے مکانوں کے مستقف حصوں کو مہیا کرنے کی ہے۔ربوہ میں ہر سال جتنی بھی جماعتی طور پر نئی عمارتیں بنتی ہیں وہ مہمانوں کے لئے کافی نہیں ہوتیں۔چنانچہ اس دفعہ میں نے جامعہ سے بھی کہا ہے کہ تمہاری ضرورت بھی ہے لیکن میری ضرورت بھی ہے اور جیسا کہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بتا چکا ہوں میری ضرورت سے مراد جماعت کی ضرورت ہے کیونکہ میں اور جماعت ایک ہی وجود کے دو نام ہیں جو غلبہ اسلام کی عظیم مہم کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔غرض جماعتی ضرورت کے پیش نظر