خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 516 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 516

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۱۶ خطبہ جمعہ ۱۷ نومبر ۱۹۷۲ء بہت سارے کام کرنے پڑتے ہیں۔بعض اشیاء خریدنی پڑتی ہیں۔مثلاً شروع میں گندم خریدنی پڑتی ہے۔اس وقت نسبتا سستی مل جاتی ہے۔پھر جلسہ سالانہ کے ضمن میں کچھ یاددہانیاں کرانی پڑتی ہیں۔اہل ربوہ کو بھی اور ان بھائیوں کو بھی جو باہر سے ربوہ میں تشریف لاتے اور جلسہ کی برکات اور فیوض سے بہرہ ور ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک سال کے وقفہ ( ناغہ ) کے بعد انشاء اللہ اور اسی کی توفیق سے اس سال ہمارا جلسہ سالانہ منعقد ہوگا۔ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کی امید رکھتے ہیں اور ہمارا اپنے رب کریم پر بھروسہ ہے کہ وہ اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا کر دے گا کہ بیچ میں کسی قسم کی روکیں پیدا نہ ہوں۔دوست دوسال تک جلسہ کا انتظار کرتے رہے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں یہ توفیق بخشے گا کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حضور دعاؤں کے ماحول میں دعائیں کرنے کی توفیق پائیں۔جلسہ سالانہ کے جملہ انتظامات کے علاوہ اہلِ ربوہ کی جو ذمہ داریاں ہیں، میں سمجھتا ہوں ان میں سے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پوری تعداد میں، رضا کارانہ طور پراپنی خدمات منتظمین جلسہ کو پیش کر دیں۔ان دنوں ہمارے سکول اور کالج بڑا کام کرتے ہیں۔بچوں کا کالج بھی ، بچیوں کا کالج بھی اور اسی طرح ہمارے سکول بھی بہت کام کرتے ہیں۔اس ضمن میں ہمارے بعض دوستوں کو بعض خدشات بھی لاحق ہیں کیونکہ ہماری نئی حکومت نے اپنے منشور کے مطابق سکولوں اور کالجوں کو قومی تحویل میں لینا شروع کر دیا ہے ”شروع کر دیا ہے“ کا مطلب ہے کہ اعلان کر دیا گیا ہے کہ حکومت نے سکولوں اور کالجوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔چنانچہ اس دفعہ نصرت گرلز ہائی سکول کی استانیوں کو یکم کی بجائے گیارہ تاریخ کو تنخواہیں ملیں جبکہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ کو ابھی تک تنخواہیں نہیں ملیں۔بہر حال سکولوں وغیرہ کو قومی تحویل میں لینا بہت بڑا کام ہے۔بڑی ذمہ داری حکومت نے اپنے سر لی ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں صحیح خدمت کی توفیق دے۔یہ آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جائے گا چنانچہ سکولوں اور کالجوں کو قومی تحویل میں لے لئے جانے پر بعض بچے یا بعض نا سمجھ دوست گھبراتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہائی سکول میں، جامعہ میں اور دوسرے تعلیمی اداروں میں ہمارے مہمان ٹھہرتے