خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 504

خطبات ناصر جلد چہارم ۵۰۴ خطبہ جمعہ ۱۰/ نومبر ۱۹۷۲ء مارنے کے لئے پیدا نہیں کیا بلکہ ہمیں زندہ رکھنے اور ہمارے ذریعہ دوسروں کو زندہ کرنے کے لئے پیدا کیا ہے تاہم بشری کمزوریوں کی وجہ سے ایسے موقع پر تین قسم کے رد عمل ممکن ہیں جن سے بچنے کی ضرورت ہے۔پہلا وطن ہے یعنی مفوضہ فرائض میں سستی کا پیدا ہو جانا اللہ تعالیٰ انبیاء اور ان کی جماعتوں کے متعلق فرماتا ہے۔فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمُ فِي سَبِيلِ اللهِ یعنی وہ اس تکلیف کی وجہ سے جو انہیں اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے۔ست نہیں ہوتے۔وطن کے معنے ضُعْفٌ فِي الْأَمْرِ وَالْعَمْلِ کے بھی ہوتے ہیں۔ایک اجتماعی کوشش کے سلسلہ میں جو کام سپر د ہوا ہے اس میں کمزوری پیدا نہ ہو۔ضعف في الأَمْرِ دراصل ضُعْفٌ فِي الْعَمْلِ کی بنیاد ہے۔عمل میں جب قوت اور شدت پیدا ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ امر میں قوت اور شدت موجود ہے یعنی اس میں ایک قسم کا جھکاؤ ، دلچپسی ، بشاشت اور ایثار کا جذبہ پایا جاتا ہے جماعت احمد یہ اسی روحانی بشاشت، شوق عمل اور جذبہ ایثار کا ایک حقیقی نمونہ ہے۔خدا تعالیٰ نے اسے اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اسلام کو ساری دُنیا میں غالب کرے۔پس یہ وہ عظیم مقصد ہے جس کے مطابق ہم عمل کریں گے اور انشاء اللہ اسلام کو ساری دُنیا پر غالب کر کے دم لیں گے۔غرض یہ جذبہ برقرار رہنا چاہیے یعنی دنیا خواہ ادھر سے ادھر ہو جائے یا ساری دنیا مل کر ہماری تباہی کے سامان پیدا کرنے کی کوشش کرے مگر ہم اس کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے کیونکہ اس جذ بہ میں جب کمزوری واقع ہو جائے اور اس کے نتیجہ میں انسان اپنے عمل میں سست پڑ جائے تو اس کو وھن کہتے ہیں یعنی مایوسی اور شبہ کے آثار پیدا ہو جائیں کہ پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کے وعدے پورے بھی ہوں گے یا نہیں۔پتہ کیسے نہیں ! اگر وہ خدا تعالیٰ کے وعدے ہیں تو ضرور پورے ہوں گے۔پس یہ ایک خطرہ ہے جو لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللہ کی رو سے پیدا ہوسکتا ہے تاہم یہ خطرہ پیدا نہیں ہوتا کہ خدا کی جماعت ہلاک ہو جائے گی۔ہلاکت تو در کنار اگر دھن، ضعف اور