خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 494 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 494

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۹۴ خطبه جمعه ۳ / نومبر ۱۹۷۲ء اور دعائیں کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ دعا ئیں نہ کریں۔آپ دعا ئیں بھی کریں اور کوشش بھی کریں اور میں کوشش بھی کروں گا اور دعائیں بھی کروں گا تا کہ یہ ٹارگٹ پورا ہو جائے۔میں پہلے بھی کئی دفعہ توجہ دلا چکا ہوں کہ تحریک جدید میں چندوں کی کمی کو پورا کرنے کی اصل ذمہ داری دفتر سوم پر عاید ہوتی ہے۔کیونکہ یہ نیا دفتر ہے اور اس کے قیام پر ابھی سات سال گزرے ہیں اس دفتر نے آگے چل کر دفتر دوم کی قائمقامی کرنی ہے اور پھر دفتر اول کی قائم مقامی کرنی ہے۔دفتر اول میں شامل ہونے والوں میں سے کچھ دوست ہر سال وفات پا جاتے ہیں بعض دوست ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی پانچ پانچ ہزار روپے آمد تھی لیکن بڑھاپے کی وجہ سے ان کی آمد کم ہو گئی ہے اس کمی کو تو وہ خدا تعالیٰ کے پیار میں شاید برداشت کر لیتے ہوں۔لیکن ان میں سے اکثر وفات پا جاتے ہیں اور اس میں نہ میرا اختیار ہے اور نہ آپ کا اختیا ر ہے۔پس اگر چہ دفتر اول نے اپنے وقت پر تحریک جدید کے چندوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا مگر طبعی اثرات کی وجہ سے مشکل یہ بن گئی کہ دفتر اول کا چندہ گرتے گرتے ۶۸ - ۱۹۶۷ء میں (اس سے پہلے کے اعداد و شمار میرے پاس نہیں ہیں ) ایک لاکھ پچپن ہزار روپے پر آ گیا۔پھر تین سال بعد ۷۲۔۱۹۷۱ء میں ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپے رہ گیا ان تین چار سال میں دس ہزار روپے کی کمی بتاتی ہے کہ بعض دوست وفات پاگئے یا بعض پنشن پر آگئے اور آمد کم ہو گئی یا بڑھاپے کی وجہ سے تجارت کرنا چھوڑ دی اور اپنے بیٹوں سے کہہ دیا کہ وہ کا روبار سنبھالیں۔ایسی صورت میں تحریک جدید کا چندہ ان کے بیٹوں کے حساب میں لکھا جائے گالیکن ایسے بوڑھے دوستوں کی آمدنی تو بہر حال کم ہو جاتی ہے اسی طرح ان کا چندہ بھی۔ایسے دوستوں سے تو پھر تھوڑے سے چندے کی توقع کی جاسکتی ہے یعنی وہ اپنے جیب خرچ یا اس آمد سے جو وہ اپنے لئے علیحدہ کر لیتے ہیں اس میں سے ہی چندہ دے سکتے ہیں۔اس لئے ان حالات میں ۶۸ - ۱۹۶۷ ء اور ۷۲-۱۹۷۱ء کے درمیانی عرصہ میں دفتر اول کے چندوں میں دس ہزار کی کمی کوئی اتنی بڑی کمی نہیں ہے عام حالات میں اس سے زیادہ کمی واقع ہونے کا اندیشہ تھا۔ویسے تو خدا تعالیٰ دس آدمیوں کو بھی اگر یہ تو فیق عطا کرے کہ وہ اس دفتر میں پچاس گنا زیادہ چندہ دیں تو یہ فرق دور ہو جائیگا اس لئے میں یہ نہیں کہتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی