خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 493
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۹۳ خطبہ جمعہ ۳/ نومبر ۱۹۷۲ء میں شامل کرتے ہیں اور ان کے حالات لکھ بھیجتے ہیں۔غرض مشرقی پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات کے باوجود پچھلے سال تحریک جدید کا چندہ تدریجی ترقی کے آخری سال یعنی چھ لاکھ پینسٹھ ہزار سے بڑھ کر چھ لاکھ پچھتر ہزار تک جا پہنچا حالانکہ اس میں مشرقی پاکستان کی آمد شامل نہیں ہے اگر وہ بھی چھ لاکھ پینسٹھ ہزار روپے والی آمد کی طرح ہی سمجھ لی جائے تو یہ رقم سات لاکھ پانچ ہزار روپے بنتی ہے۔پس اگر چہ ساری دنیا میں ایک آگ لگی ہوئی ہے لیکن چونکہ ہمارے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔یہ آگ ہماری غلام بلکہ ہمارے غلاموں کی غلام ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ کی اس قدرت کا مظاہرہ تحریک جدید کے چندوں میں اضافہ کی صورت میں ہوا۔لوگوں کی آمدنیوں پر اثر پڑنا چاہیے تھا مگر اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو مجموعی طور پر یہ تو فیق عطا فرمائی کہ وہ اس فتنہ و فساد کی آگ سے اپنی آمدنیوں کو متاثر نہ ہونے دیں۔تا کہ غلبہ اسلام کے لئے قربانیاں دینے کی جو ذمہ داری ان پر عاید کی گئی ہے۔وہ اثر انداز نہ ہو اور ان کی کوششوں میں کمی واقع نہ ہو یا اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں کمی نہ آجائے۔ویسے پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال غیر ممالک میں جماعت پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل نازل ہوا ہے جو آپ کے سامنے بھی آنا چاہیے۔اس لئے تحریک جدید کو چاہیے کہ وہ چھوٹے چھوٹے نوٹ الفضل میں دیا کریں۔اسی طرح نصرت جہاں آگے بڑھو کی سکیم ہے۔اس سکیم کے ماتحت بہت سے کام ہورہے ہیں۔اس الہی سکیم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے پیار اور اس کی رحمت کے عجیب نظارے ہم آئے روز دیکھتے رہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ نظارے جماعت کے سامنے آنے چاہئیں تا کہ وہ بھی شکر ادا کریں اور دل کی گہرائیوں سے الحمد للہ کا ورد کریں۔اور دین کی راہ میں بشاشت کے ساتھ مزید قربانیاں دینے کے لئے تیار ہوں۔بہر حال سات لاکھ پانچ ہزار کی رقم بھی ٹارگٹ سے کم ہے اس میں پچاسی ہزار روپے کا فرق ہے اس لئے دوستوں کو چاہیے کہ وہ ٹارگٹ تک پہنچنے کے لئے اس کمی کو اس نئے سال میں پورا کرنے کی کوشش کریں۔میں بھی کوشش اور دعا کروں گا۔آپ بھی دعائیں کریں میری کوشش