خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 478
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷۸ خطبه جمعه ۱۷۲۰ کتوبر ۱۹۷۲ء ہرضروری چیز عطا فرمائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندے! تو مجھ سے میرے فضل اور رحمت کی دعا کر میں تجھے اپنے فضلوں اور رحمتوں سے نوازوں گا پس گو ہدایت تو مل گئی لیکن صرف ہدایت کا مل جانا کافی نہیں ہے۔ہدایت کو پہچاننا بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کے لئے صفات باری کا عرفان حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔اس ہدایت پر قائم رہنا یعنی جب تک انجام بخیر نہ ہو جائے اور ناکامی کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے اس وقت تک صراط مستقیم پر گامزن رہنا بھی ضروری ہے۔انجام بخیر کے یہی معنے ہیں کہ اس کے بعد نا کامی کا کوئی خطرہ باقی نہیں رہتا۔پس جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کا فیض آسمان سے نازل نہ ہو اُس وقت تک جسمانی اور روحانی قوتوں کے ہونے کے باوجود انسان روحانیت حاصل نہیں کرسکتا اور خدا کا عبد نہیں بن سکتا۔چنانچہ آپ دیکھ لیں کیا عقلی لحاظ سے اور کیا دنیوی علوم کے لحاظ سے بعض قو میں بڑی آگے نکل گئی ہیں مگر اس کے باوجود ان کے وجود کا ایک حصہ مفلوج ہے۔گو اجتماعی رنگ میں انہوں نے بڑی ترقی حاصل کی ہے لیکن انفرادی لحاظ سے فالج زدہ ہیں۔روحانی لحاظ سے اُن کے اندر نہ جان ہے نہ کوئی حرکت نظر آتی ہے۔انہیں بڑی حد تک مذہبی اقدار اور اخلاقی قیود کا کوئی احساس ہی نہیں۔اُن کی حالت اس انسان کے مشابہ ہے جسے بعض دفعہ فالج ہوتا ہے اور اس کا آدھا دماغ مفلوج ہو جاتا ہے لوگ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں کو فالج ہوا وہ بعض باتیں تو بڑے پتے کی کرتا ہے لیکن بعض باتیں بے ہوشی کی حالت میں مجنونانہ قسم کی ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ افراد میں اس قسم کے حالات اس لئے پیدا کرتا ہے کہ لوگوں کو یہ مسئلہ سمجھ آ جائے چنانچہ اسی طرح روس اور امریکہ اور بعض دوسرے ممالک بعض باتیں خصوصاً مادی علوم کے متعلق تو بڑی پتے کی کرتے ہیں مگر بعض باتیں انتہائی نامعقول کرتے ہیں۔یہاں تک کہ خدائے حتی و قیوم کی ہستی کا انکار کر دیتے ہیں پس ایسی صورت میں انسان کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا میں ایسا بھی ہو جایا کرتا ہے جس طرح کسی فرد کو فالج ہو سکتا ہے اور ہوجا تا ہے اور اسی طرح بعض دفعہ کسی قوم یا جماعت یا گروہ کو بھی فالج ہوسکتا ہے اور ہو جاتا ہے۔بہر حال یہ تو ایک ضمنی بات تھی میں بتا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو! تم غور نہیں