خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 473
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۷۳ خطبه جمعه ۱۷۲۰ کتوبر ۱۹۷۲ء غرض اللہ تعالیٰ نے ماڈی قومی اور ان کی تربیت اور نشوونما کے لئے زمین و آسمان پیدا کئے۔چنانچہ فرمایا :۔سَخَّرَ لَكُمْ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مِنْهُ (الجاثية : ١٤ ) زمین و آسمان میں بے شمار چیزیں ہیں جو انسانی پیدائش سے بھی پہلے پیدا کی گئی ہیں۔یہ پیدائش یعنی انسان کی قوتوں میں استعدادی کمال کا پایا جانا اور اُن کی نشوونما کے لئے ہر ضروری چیز کا موجود ہونا اللہ تعالیٰ کے قرب کی دلیل ہے۔چنانچہ اللہ تعالی کا عبد بننے کے لئے صرف ماڈی قویٰ کافی نہیں تھے۔روحانی صلاحیتوں اور قوتوں کی بھی انسان کو ضرورت تھی۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو روحانی صلاحیتیں بھی عطا فرمائیں۔پس اللہ تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے روحانی قوت اور استعداد کا پیدا کر دینا بتا تا ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کے بہت قریب ہے۔پھر جہاں تک روحانی قوتوں کا تعلق ہے انسان از خود اُن سے کام نہیں لے سکتا اس لئے روحانی قوتوں کی کمال نشو ونما کے لئے ہر آن ہدایتِ باری تعالیٰ کی ضرورت ہے۔غرض تخلیق کائنات کا یہ ایک لمبا سلسلہ ہے جس کی طرف پہلی آیت میں اشارہ ذکر کیا گیا ہے اور پھر وضاحت کے ساتھ اس مضمون کے متعلق قرآن عظیم میں ایک لمبا سلسلہ چلتا ہے۔چنانچہ خالی یہی نہیں فرمایا کہ آدم کو ایک ہدایت دے دی اور انسان کو کہا کہ تم اس کے مطابق روحانی ترقیات کرتے چلے جاؤ بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کے وقت انسان کو اپنی نشوو نما کے جس درجہ اور جس مقام پر پہنچنا تھا اور اس کے لئے جس قسم کی آسمانی ہدایت کی ضرورت تھی وہ ان کو دے دی گئی۔پھر اس کے بعد یکے بعد دیگرے انبیاء آئے۔انسان دنیوی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی ترقی کرتا چلا گیا۔پس جہاں تک آسمانی ہدایتوں کا تعلق تھا اور زمین کے اندر قوتوں کے پیدا کرنے کا سوال تھا اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کے ہر مر حلے اور ہر درجے میں مختلف ہدایتیں نازل کرتا اور قوتیں پیدا کرتا رہا کیونکہ وہ ہر آن اتنا باخبر اور قریب ہے کہ انسان کی ہر بدلی ہوئی حالت کا اُسے علم ہوتا ہے ویسے تو وہ علام الغیوب ہے۔ہر چیز اس کے علم میں بھی ہے۔