خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 464 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 464

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۶۴ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۲ء وجود اس بات میں تو کامیاب ہو گیا کہ اس نے انسانوں میں سے ایک گروہ کو روحانی ترقیات سے محروم کر کے اسفل سفلین کے زمرہ میں شامل کر دیا لیکن ہزار ہا سال کی کوشش کے نتیجہ میں وہ حقیقی معنی میں کامیاب نہیں ہوا کیونکہ انسان کو جن رفعتوں کے لئے پیدا کیا گیا تھا اور اس کی رفعتوں کی طرف جو حرکت حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کی گئی تھی اس کے اندر ایک تسلسل پایا جاتا ہے یہ کبھی نہیں ہوا کہ شیطانی گروہ جو آسفل سفلین کے زمرہ میں ہے انہوں نے اس روحانی حرکت کو روک دیا ہو اور معطل کر دیا ہو۔ایسا کبھی نہیں ہوا کیونکہ جو ایمان اور عمل صالح بجالانے والا گروہ ہے اس کے لئے ان انقلابات میں ہمیں اجرٌ غَيْرُ مَسُنُونِ نظر آتا ہے ایک تسلسل ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا۔پھر اس انقلاب عظیم سے شروع ہوا اور قیامت تک ممتد ہے۔پس شیطان کی ہزاروں سال کی کوشش سے جو امر ثابت ہوا وہ شیطانی منصوبوں کی ناکامی اور اس کی تدبیروں کی ہلاکت ہے یہ ثابت نہیں ہوا کہ روحانی انقلاب کی جو ایک رو پیدا کی گئی تھی اس کا تسلسل ٹوٹ گیا ہو بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو مومنون کا گروہ ہے یعنی ایمان لانے والوں کا اور عمل صالح بجالانے والوں کا گروہ ہے اس کے لئے آجرٌ غَيْرُ مَمنون مقدر ہے۔حضرت آدم علیہ السلام سے یہ تسلسل قائم ہوا اور قیامت تک چلتا چلا جائے گا کبھی ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ اس کی وسعتیں اس کی گہرائی کو کم کر دیتی ہیں اور کبھی ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ اس کی گہرائی اس کی وسعتوں کو کم کر دیتی ہے لیکن یہ کہ اس کا تسلسل ٹوٹ جائے یہ ہمیں نظر نہیں آتا۔گویا حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے انقلاب سے لے کر آخری انقلاب تک یہ سلسلہ قائم ہے اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صد ہا سال سے انسان کے لئے جو اجرٌ غَيْرُ مَعْنُونِ مقدر ہے اس کا سلسلہ قیامت تک چلے گا۔پھر انقلابات سے یہ نتیجہ نکلا کہ فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدین کہ اے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم ) تیرے دین کے غلبہ کی مہم کو شیطان کی بھلا کونسی تدبیر ناکام بنا دے گی۔الدّین کے ایک معنی الْغَلَبَةُ وَالْإِسْتِيلاء بھی ہے۔ان انقلابات کے نتیجہ میں یہ ثابت ہوا کہ جس طرح پہلے انقلابات ایک تسلسل کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک کامیاب ہوتے رہے ہیں اسی طرح