خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 460
خطبات ناصر جلد چهارم ۴۶۰ خطبه جمعه ۱۳ /اکتوبر ۱۹۷۲ء ۶۶ آج ہم اپنے دو پیاروں اور خادمانِ دین کے جنازے پڑھیں گے۔اس وقت ایک جنازہ تو یہاں پہنچ چکا ہے دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں۔ایک جنازہ تو چوہدری عبدالرحمان صاحب کا ہے جولندن میں وفات پاگئے تھے۔ان کا جنازہ اغلباً آج یہاں پہنچ رہا ہے چوہدری صاحب مرحوم بڑے سمجھدار محنتی اور بے نفس خادم دین تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں سالہا سال تک لندن کی جماعت کی خدمت کرنے کی توفیق بخشی۔میں اپنی خلافت کے زمانہ میں دو بارلندن جا چکا ہوں۔میں نے خود بھی اندازہ لگایا اور دوستوں سے بھی پوچھا میرا یہی تاثر ہے کہ وہ اپنے ذاتی کاموں کے علاوہ اکثر چھ چھ سات سات گھنٹے مسجد میں جماعتی کاموں کے لئے دیا کرتے تھے یعنی جو کارکنان الاؤنس لے کر یہاں کام کرنے والے ہیں ان سے زیادہ وقت چوہدری عبد الرحمن صاحب لندن میں جماعت اور الہی سلسلہ کے کام کے لئے رضا کارانہ دیا کرتے تھے۔وہ ڈیڑھ سال سے دل کے مرض میں مبتلا تھے۔چند دن پہلے چوہدری صاحب پر دل کا جو دورہ پڑا وہ جان لیوا ثابت ہوا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔مرحوم موصی تو نہیں لیکن خادم احمدیت اور خادمِ اسلام ہیں ان کے لئے دوست دعا کریں اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے اور اپنی رحمتوں کی جنتوں میں رکھے۔دوسرا جنازہ جو پڑھا جائے گا وہ ہمارے محترم بزرگ شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی کا ہے۔بہت سے دوست انہیں جانتے ہوں گے۔علمی میدان میں انہوں نے بڑی خدمت کی ہے ان کا جنازہ یہاں پہنچ چکا ہے وہ بھی پڑھا جائے گا لیکن چونکہ رمضان میں ظہر سے عصر تک قرآن کریم کا درس ہوتا ہے اور نماز جنازہ کی ادائیگی کی نسبت قرآن کریم کا سکھانا اور سیکھنا بہر حال بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے اس واسطے یہ سوچا گیا ہے کہ قرآن کریم کے درس کو تو ہم بہر حال نہیں چھوڑ سکتے۔قرآن کریم کا یہاں درس ہوگا۔درس ٹھیک چار بجے تک جاری رہے اور پورے وقت میں ختم ہو۔میں مسجد مبارک میں نماز چار بجے کی بجائے سوا چار بجے پڑھاؤں گا اور چونکہ آج یہاں درس ہوتا ہے اس درس میں شمولیت کے لئے ہماری بہت سی بہنیں یہاں آئی ہوں گی جنہوں نے نماز جنازہ میں شامل نہیں ہونا۔دوسرے بعض دوست بیمار ہیں بعض بوڑھے ہیں وہ ایک حد تک ہی جسمانی بوجھ کو برداشت