خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 28
خطبات ناصر جلد چہارم سمجھنا پڑے گا)۔۲۸ خطبہ جمعہ ۲۸ /جنوری ۱۹۷۲ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى وَ أَنَّ سَعْيَهُ سَوْفَ يُری۔ایسا شخص جوا اپنی استعداد کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے وہ اپنی کوشش کا نتیجہ ضرور دیکھے گا اور اس کی سعی کے مطابق جَزَاء اوٹی یعنی پوری جزاء اسے ضرور ملے گی۔وَ أَنَّ إِلى رَبِّكَ الْمُنْتَهی۔اسے اپنی کوشش پر نازاں نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بعض ایسی کمزوریاں ہوتی ہیں جو انسان کی نظر میں نہیں ہوتیں اور اس کی عقل میں نہیں آسکتیں لیکن کمزوری ہوتی ہے۔یہ فیصلہ کرنا کہ اس شخص یا جماعت نے اپنی طاقتوں اور وقتی نشو ونما کے مطابق بغیر کسی کمزوری کے ( کمزوری ایمان ہو یا کمزوری عمل یا کمزوری فہم خدا کے حضور اپنی انتہائی قربانی پیش کر دی ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔انسان یہ کر ہی نہیں سکتا اس کی نگاہ دوسروں کے سلسلہ میں بھی متعصبانہ ہوسکتی ہے اور اپنے حق میں تو انسان بڑا سخت متعصب بن جاتا ہے کرتا تھوڑا ہے اور سمجھتا ہے میں نے بہت کیا۔کچھ بھی نہیں کرتا اور سمجھتا ہے میں نے کچھ کر لیا۔قرآن کریم میں ایسے لوگوں کا بھی ذکر ہے کہ کرتے کچھ نہیں اور دعوے بڑے کر رہے ہوتے ہیں۔ایسی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔پس فرما یا تم انتہائی کوشش کرو جس قدر تم کر سکتے ہو لیکن تکبر نہ کرنا۔ہمارا وعدہ یہ ہے کہ تمہاری انتہائی کوششوں کا انتہائی نتیجہ نکلے گا بشرطیکہ تمہاری کوششیں ہماری نگاہ میں بھی انتہا تک پہنچی ہوئی ہوں اور تم اس شرط کو کبھی نہ بھولنا۔آج میں ایک اور خطبے کے تسلسل میں ہی محنت پر زور دینا چاہتا ہوں گو محنت سے مراد ہر قسم کی محنت ہوتی ہے لیکن ہر فرد اور قوم میں اصولاً دو قسم کی محنتیں ہوتی ہیں۔ایک فرد یا قوم کی استعدادوں کی نشوونما کے لئے محنت اور ایک یہ کہ پہلے کی نشوونما کے بعد اُس وقت (معین کوئی وقت یا تاریخ لے لیں) کی طاقتوں اور استعدادوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ، اس کی شریعت کی روشنی میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نور سے روشنی حاصل کرتے ہوئے پورے طور پر کام میں لگا دینا اور اس وقت کے لحاظ سے اپنی ساری طاقت اور استعداد کے مطابق خدا اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی کو انتہا تک پہنچادینا۔یہ دونوں کوششیں اپنی انتہائی شکل میں ہونی