خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 436 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 436

خطبات ناصر جلد چہارم ۴۳۶ خطبہ جمعہ ۲۹ ستمبر ۱۹۷۲ء اس سے مدد مانگنے کی اور اسی کے سہارے کامیابیوں کے حاصل کرنے کی امید اور آخرت میں سرخرو ہونے کی توقع رکھنے کی اصل ذمہ داری جماعتی لحاظ سے ہمارے نزدیک ہمارے اوپر عاید ہوتی ہے۔اس لئے ہمیں یہ دعا بھی کرنی چاہیے کہ ہمارے جو دوسرے بھائی ہیں ان کو بھی اللہ تعالیٰ صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔وہ بھی اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اس کی حفاظت اور پناہ میں آنے کی کوشش کریں۔اس وقت میں نے آیت کا ایک ٹکڑا اور دو پوری آیات تلاوت کی ہیں۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا ہی وسیع مضمون بیان فرمایا ہے۔اس میں ایک بنیادی بات جسے بڑا نمایاں کر کے ہمارے سامنے رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مذہبی تاریخ میں بھی ہوتا آیا ہے کہ انسانوں کے گروہ آگ کے گڑھے کی طرف دھکیل دیئے جاتے رہے۔وہ دیکھ رہے ہوتے تھے کہ سامنے آگ کا گڑھا ہے جس میں آگ کے شعلے اٹھ رہے ہیں اور اس کے کنارہ پر کھڑے ہیں۔یہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر اب تک دنیا میں یہی نظارہ دیکھنے میں آتا رہا ہے که بعض دفعہ جماعت مومنین کا امتحان لینے کے لئے اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پیار کے اظہار کے لئے اور بعض دفعہ فسق و فجور یا کفر و نفاق کی سزا دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ قوموں نے اور جماعتوں نے خود کو آگ کے گڑھے کے کنارہ پر دیکھا۔چنانچہ ایک آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلانے کے لئے بھی تیار کی گئی تھی ( محبوبیت کے اظہار کے لئے ) اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے نفس کو اور اپنے وجود کو اس آگ کے کنارہ پر دیکھا تھا۔پھر ایک اور مخالفت کی آگ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم کے لئے بھی جلائی گئی اور بھڑکائی گئی تھی تا ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ ختم المرسلین سے کس قدر عظیم محبت رکھتا ہے۔اس وقت اس چھوٹی سی جماعت نے خود کو عَلى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ (ال عمران: ۱۰۴) پایا تھا اور اس کے برعکس ایک آگ وہ بھی تھی جو اللہ تعالیٰ کے غضب کی ایک تجلی کے طور پر بغداد کی حکومت کو تہس نہس کرنے کے لئے ہلاکو خان کے ذریعہ جلائی گئی تھی۔کہتے ہیں کہ اس بھڑکتی ہوئی آگ کو دیکھ کر اور مسلمان قوم کو اس کے کنارہ پر کھڑا پا کر خدا کے ایک