خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 414
خطبات ناصر جلد چہارم ۴۱۴ خطبه جمعه ۱۸ ستمبر ۱۹۷۲ء تمہارے اندر وہ قو تیں موجود ہیں جن کے ذریعہ تم ان سے خدمت لے سکتے ہو تو پھر میں (اللہ ) تم سے یہ وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری اس خشیت ( کہ کہیں اللہ ہم سے ناراض نہ ہو جائے۔کہیں ہم اس کی رحمتوں سے محروم نہ ہو جائیں ) اس خوف کے نتیجہ میں لاتم نِعْمَتِي عَلَيْكُمْ میں تم پر اتمام نعمت کروں گا۔چنانچہ قرآن کریم کے الفاظ میں اتمام نعمت کی حسین شکل یہ ہے اليومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْبَتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دینا۔(المائدة : ٤ ) اس آیہ کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اتمام نعمت یعنی کامل شریعت تمہیں مل چکی ہے اگر تم اس کامل ہدایت پر عمل کرو گے، اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے عاجزانہ راہوں کو اختیار کرو گے اپنی زندگی کو اسلامی تعلیم کے رنگ میں رنگین کر لو گے تو اس دُنیا میں بھی اور اُخروی زندگی میں بھی تم پر اتمام نعمت ہو جائے گا تمہیں حسنات دُنیا بھی اپنے کمال میں ملیں گی اور حسنات اُخروی بھی کامل رنگ میں ملیں گی۔اب اگر ہمیں یہ حسنات نہیں ملتیں تو اس میں ہمارا اپنا قصور ہے ہم نے خدا تعالیٰ کی بجائے بنی اسرائیل کا خوف اپنے دل میں بٹھا لیا یا خدا تعالیٰ کی بجائے روس کا خوف اپنے دل میں پیدا کر لیا یا ہم خدا تعالیٰ کی بجائے امریکہ سے ڈرنے لگے اور یہ نہ سوچا هُوَ الرَّحْمٰنُ أَمَنَّا بِهِ وَ عَلَيْهِ توكلنا یہ خدائے رحمان ہی ہے جس نے ہماری پیدائش سے قبل ہمارے لئے ان گنت نعمتیں پیدا کیں۔دُنیا میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور ہستی نہیں ہے جو عمل سے پہلے انعام دے رہی ہو۔جو لوگ خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے انہیں اللہ تعالیٰ کی صفات کی پر چھائیاں اور سائے سے نظر آئیں تو آئیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے کامل جلوے اسی انسان پر نازل ہوتے ہیں جو اس کی صفات کا مظہر بن جاتا ہے۔انگریزوں میں سے مالدار اور دولت مند لینڈ لارڈز اور کار خانے دارلوگوں کو جب یہ نظر آیا کہ ان کے اپنے ملک میں عوام کی گرفت ان پر سخت ہو رہی ہے تو وہ نو آبادیات کی طرف نکل آئے اور اُنہوں نے لوگوں پر یہی ظاہر کیا وہ رحمن کی صفت کا جلوہ دکھا رہے ہیں۔یعنی وہ ان کے