خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 396
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۹۶ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء چنانچہ یہ ایک دور تھا جو گزر گیا پھر جماعتیں قائم ہونے لگیں اور ہم مکی زندگی سے ملتے جلتے دوسرے دور میں داخل ہو گئے۔مخالفین کے ظلم بڑھ گئے۔اگا دگا احمدی شہید بھی ہوا حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف کو بڑے ظالمانہ طور پر شہید کر دیا گیا اور بھی بہت سے جاں نثار پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام واحمدیت کی سچائی کی خاطر اپنی جان دے دی۔ہر احمدی نے اپنے ایثار اور قربانی سے یہ ثابت کر دکھایا کہ وہ اس یقین پر قائم ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں۔یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو دنیا پر غالب کرنے کے لئے قائم کیا ہے۔اس واسطے کسی احمدی کو مخالفت کی کوئی پرواہ نہیں تھی اور نہ ہے وہ سمجھتا ہے کہ موت تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔نوجوان بھی مرجاتا ہے۔ادھیڑ عمر کا ہو یا بوڑھا ہو، مرد ہو یا عورت ہر ایک نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔موت پر تو انسان کو اختیار ہی نہیں ہے لیکن جب ظالم ظلم سے مارنا چاہے تو بشاشت کے ساتھ خدا کی رضا کے حصول کے لئے جان دے دینا یہ بہت بڑی چیز ہے اور حقیقی قربانی کی علامت ہے۔چنانچہ ہمارے محترم صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید نے کسی چیز کی پرواہ نہیں کی۔اسی طرح اور بھی جانباز پیدا ہوئے جنہوں نے احمدیت کی خاطر جان دے دی۔پھر بعض نے میدانِ تبلیغ میں جانیں دے دیں۔یہ بھی ایک شہادت ہے جو ایک گروہ کو حاصل ہوتی رہی۔جس طرح رو سائے مکہ نے سمجھا تھا کہ مسلمان تھوڑے سے ہیں ان کو تنگ کر کے مرتد کر لینا چاہیے اس طرح اس دوسرے دور میں ساری دُنیا میں اسلام پر بھی ایک ایسا وقت آیا کہ عیسائیوں نے کہا ان کو پیسے دے کر دنیا کا عیش پیش کر کے عیسائی بنالو۔بس یہ اپنے آپ ختم ہو جا ئیں گے۔اس قوم میں کوئی جان نہیں ہے وہ مسلمانوں کو اتنی تنزل کی حالت میں دیکھ رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہ جلد ہی عیسائی ہو جائیں گے چنانچہ ۱۸۵۵ء اور ۱۸۸۰ ء کے درمیان عالمی کانفرنسوں میں عیسائیوں کے چوٹی کے مناد پادریوں نے یہ کہا کہ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے کہ خداوند یسوع کا جھنڈا خانہ کعبہ پر لہرائے گا۔چنانچہ برصغیر پاک و ہند میں حضرت علامہ عماد الدین جو آگرہ کی جامع مسجد میں واعظ رہے تھے وہ عیسائی ہو گئے۔پھر وہ پادری عماد الدین کہلانے لگے وہ بڑا پڑھا لکھا آدمی تھا۔علوم ظاہری