خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 387
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۸۷ خطبہ جمعہ یکم ستمبر ۱۹۷۲ء چنانچہ یہ زمانہ کئی سال پر ممتد تھا۔یہ بھی گزر گیا۔پھر ہجرت ہوگئی اس پر رؤسائے مکہ کی آنکھیں کھلیں کہ مسلمانوں کو مٹانے کے لئے تلوار نکلنی چاہیے تھی۔ہم سے غلطی ہو گئی۔اب بھی کوئی بات نہیں۔ہم مسلمانوں کو بزور شمشیر مٹا دیں گے چنانچہ کفر اور اسلام کے درمیان جو پہلی جنگ ہوئی اس میں کم و بیش ۳۱۳ مسلمان لڑنے والے تھے یہ تو کوئی نفری نہیں ہے اسلام پر لبیک کہنے والوں کی جو ساری دُنیا میں ایک عظیم انقلاب بپا کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ کفار نے مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے کا انتظام کیا اور یہ سمجھا کہ مسلمانوں کو مٹانے کے لئے رؤسائے مکہ کافی ہیں چنا نچہ اُنہوں نے اپنے ساتھیوں اور نوکروں اور غلاموں کو ساتھ لیا اور اسلام کو مٹانے کے لئے مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے مدینہ پر دھاوا بول دیا جس کے نتیجہ میں جنگ بدر ہوئی ، جہاں اسلام کا سر تو نہیں کٹا اور نہ کٹ سکتا تھا لیکن اسلام کے خلاف رؤسائے مکہ کی جو مہم تھی اس کا سرکٹ گیا۔وہ اپنے بڑے بڑے سرداروں کی لاشیں میدانِ جنگ میں چھوڑ کر بھاگ گئے۔اس جنگ میں گو کفار کا فیصلہ تو نہیں ہوا لیکن فیصلے کی ابتداء ہو گئی اندھیرا دور تو نہیں ہوا لیکن غلبہ اسلام کے اُفق پر غیروں کو بھی روشنی کی کرن نظر آنے لگ گئی۔پس جنگ بدر میں شکست کھانے پر کفار مکہ نے سوچا یہ کیا ہو گیا ہے وہ سمجھے ہم اکیلے تو مسلمانوں کو مٹانہیں سکتے۔اس لئے اب ہمیں مکہ کے علاوہ عرب میں رہنے والے دوسرے قبائل کو بھی اپنے ساتھ ملانا چاہیے۔چنانچہ مظلومیت کے اس تیسرے دور میں مسلمانوں کو اپنے دفاع میں ہتھیار استعمال کرنے پڑے کیونکہ جارحیت لوہے کے ہتھیاروں سے کی گئی تھی۔اس لئے اس کو روکنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تلوار استعمال کرنے کی اجازت دی۔یہ مدافعانہ جنگ تھی جو اس سے بھی ایک زبردست روحانی اور جارحانہ جنگ کی تیاری کے لئے لڑی گئی مسلمان اس دور میں سے بھی گزر گئے۔پھر سارا عرب مسلمان ہو گیا اور حکومت کی شکل میں عرب کے اندر اسلام قائم ہو گیا۔جس وقت سارا عرب مسلمان ہو گیا اُس وقت کسری اور قیصر کو ہوش آیا۔اُنہوں نے کہا یہ کیا ہو گیا ہے۔یہ عرب کے بدو نہ ان کو کھانے کی تمیز ہے اور نہ رہنے کی۔یہ اتنے طاقتور ہو گئے ہیں جہاں تک