خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 381 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 381

خطبات ناصر جلد چہارم خطبه جمعه ۲۵ /اگست ۱۹۷۲ء آیا ہوتا تو ساری دنیا میں اسلام کے غالب ہونے کے لئے سامان پیدا نہ ہوتے۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ترین روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اسلام کا جو آخری غلبہ ادیان باطلہ اور فلسفہ ہائے باطلہ پر مقدر ہے اس کے لئے سرمایہ داری کے انقلاب کے وقت سے بنی نوع انسان کو تیا ر کیا گیا ہے۔اس لئے میرے احمدی بھائیوں اور بہنوں کو ان انقلابی تحریکوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔یہ تو ہمارے لئے تمہید کے طور پر ہیں۔چنانچہ دیکھ لیں جس وقت سرمایہ داری کا انقلاب اپنے بڑھاپے میں داخل ہورہا تھا۔اس وقت اشتراکیت کا انقلاب اپنی جوانی کے زمانہ میں داخل ہو رہا تھا۔جس وقت اشتراکیت کا انقلاب اپنے بڑھاپے میں داخل ہو رہا تھا۔اس وقت چینی سوشلزم کا انقلاب اپنی جوانی میں داخل ہور ہا تھا اور انشاء اللہ اور اسی کے فضل سے اور جیسا کہ میں دیکھ رہا ہوں یہ ایک خاص سلسلہ ہے جو ایک زبر دست الہی منصوبے کے تحت تیار کیا گیا ہے۔اس لئے میں علی وجہ البصیرت اور پورے وثوق کے ساتھ یہ کہ سکتا ہوں کہ جس وقت چینی سوشلزم کا انقلاب اپنے بڑھاپے میں داخل ہورہا ہوگا اسلام کا عظیم انقلاب اپنی جوانی میں داخل ہو رہا ہوگا۔اس لئے ہماری جماعت پر بڑی بھاری ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں۔میں نے اپنے ایک خطبہ جمعہ میں بتایا تھا کہ جہاد اکبر کے ذریعہ اسلام کی ایک زبر دست فوج تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔یہ اسلام کی وہ روحانی فوج ہوگی جس کے ذریعہ اسلام کو عالمگیر غلبہ نصیب ہو گا۔اس لئے ہمارے نوجوانوں کو بہکنا نہیں چاہیے۔ہمارے نو جوانوں کو ایثار دکھانے اور قربانی پیش کرنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔میں نے بتایا ہے کہ اس وقت تک دو انقلاب بڑھاپے میں داخل ہو چکے ہیں پہلاسرمایہ داری کا نظام ہے یہ بظاہر دم توڑ رہا ہے پتہ نہیں اس کی عمر کتنی لمبی ہے۔روسی اشترا کی نظام میرے نزدیک بڑھاپے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جو انقلاب جوانی میں داخل ہوتا ہے وہ اپنے بعض مسائل کو ایثار اور قربانی سے حل کرتا ہے اور جو انقلاب اپنے بڑھاپے میں داخل