خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 382
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۸۲ خطبه جمعه ۲۵ راگست ۱۹۷۲ء ہوتا ہے وہ اپنے مسائل کو Compromise ( کمپرومائز ) یعنی سمجھوتے کے ذریعے حل کرتا ہے۔کمپرومائز یا مداہنہ اپنے نفس میں تضاد ہے اور صراط مستقیم سے روگردانی ہے۔کیونکہ صراطِ مستقیم میں کسی اور طرف سڑکیں نہیں نکلتیں۔وہ ایک سیدھی شاہراہ ہے۔اس سے ادھر ادھر ہونا گمراہی ہے۔غرض مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب مِنْ شَيْءٍ کا ایک جلوہ تو انقلاب عظیم کی شکل میں قرونِ اولیٰ میں رونما ہوا۔دوسرا جلوہ آخری زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی روحانی تاثیرات اور انفاس قدسیہ کے ذریعہ بپا ہونا تھا۔اس زمانے میں ہم داخل ہو چکے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے۔اس زمانے میں بھی نجوم کا سلسلہ جاری ہے۔پھر اس کے آخر میں فرمایا آفبهذا الْحَدِيثِ اَنْتُم قُدُهِنُونَ (الواقعة : ۸۲) کیا اس قرآن کے بارے میں تم مداہنت سے کام لیتے ہو۔یہ تو مسائل کو حل کرنے کے لئے مداہنت یعنی کمپرومائز کو روانہیں سمجھتا یہ تو ایثار اور قربانی پر زور دیتا ہے اور اس میں مداہنت نہیں البتہ کمپرومائز میں مداہنت ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ اپنے نفس میں ایک لمبا مضمون ہے پھر کسی وقت انشاء اللہ بیان ہو جائے گا۔میں اس وقت بتا یہ رہا ہوں کہ مَا فَتَطْنَا فِي الكتب مِنْ شَيْءٍ میں جس روحانی سلسلہ کے قیام کا ذکر ہے وہ سلسلہ اب آخری اور ہمیشہ رہنے والے غلبہ اسلام کے زمانہ میں داخل ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن کریم کا نازل ہو نا رب العالمین خدا کی طرف ہے کیا تم اس سے مداہنت کا رویہ اختیار کرتے ہو۔قرآن کریم کی تعلیم سے مداہنت کرنا تو بڑی عجیب بات ہے۔میں نے اس مضمون کو مختصر بیان کر دیا ہے۔ہمارے بعض نوجوان انقلابی تحریکوں کا تھوڑا بہت اثر قبول کر لیتے ہیں ان کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اثر قبول کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ تو دنیا کے قائد اور معلم بنائے گئے ہیں۔وہ شاگرد اور بھک منگے نہیں بنائے گئے۔انہیں کچھ حاصل کرنے کے لئے کسی کے سامنے اپنا کشکول رکھنے کی ضرورت نہیں ہے پس میں اپنے نو جوانوں سے کہتا ہوں کہ تم دنیا کو رشد و ہدایت دینے کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔دنیا سے کچھ لینے کے لئے پیدا نہیں کئے گئے۔دنیا تم سے وہ کچھ حاصل کرے گی جسے تم آج نہیں سمجھتے مگر میں اسے