خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 361
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۶۱ خطبه جمعه ۱۸ اگست ۱۹۷۲ء کو ہمارے ساتھ دشمنی ہے اس کے لئے بھی ہم دعا کریں گے۔اللہ تعالیٰ اسے عقل اور سمجھ عطا فرمائے۔وہ اپنی تباہی اور ملک کی تباہی کے سامان پیدا کرنے کی کوشش نہ کرے۔بہر حال ہم عاجز بندے ہیں اور یہ حقیقت ہمارے سامنے ہے ہم اسے بھولے تو نہیں۔اللہ تعالیٰ کے نشان دیکھنے پر بھی اتنا زمانہ نہیں گذرا کہ ہم یہ کہیں کہ پہلوں نے نشان دیکھے تھے۔ہمیں کیا معلوم ہے نہیں ! ہمیں بھی معلوم ہے کیونکہ ہم بھی روز یہ نشان دیکھتے ہیں۔کوئی پشاور میں نشان نظر آ رہا ہے کوئی نشان گوجرانوالہ میں نظر آرہا ہے۔کوئی گجرات میں نظر آ رہا ہے۔کوئی سیالکوٹ میں نظر آرہا ہے۔کوئی نشان ملتان، بہاولپور اور کراچی غرض سارے پاکستان میں یہاں تک کہ ساری دنیا میں نشان نظر آ رہے ہیں۔ہمارا رب بڑا ہی پیار کرنے والا ہے اگر ہم اس سے بے وفائی نہ کریں تو وہ انسان سے کہیں زیادہ وفادار ہے اگر ہم اس کے شکر گزار بندے بنیں تو وہ ہمیں اپنے فضلوں سے بہت زیادہ نوازتا ہے اسی لئے اس نے قرآن کریم میں فرمایا: - لَبِنُ شَكَرْتُهُ لا زيد تكُم (ابراهیم : ۸ ) پس اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر کیا جائے کم ہے۔بعض لوگ جو ابھی احمدی نہیں ہوئے مثلاً افریقہ میں بھی ہیں اور دوسری جگہوں پر بھی ہیں وہ اپنی تقریروں میں علی الاعلان بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے احمدیت کی صداقت کے نشان دیکھے ہیں چنانچہ سیرالیون کے ایک سابق ڈپٹی پرائم منسٹر کے متعلق میں پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں کہ جب میں افریقہ کے دورے پر گیا اور سیرالیون پہنچا تو اس نے پیچھے پڑ کر استقبالیہ دیا میں سمجھتا ہوں کہ سابق نائب وزیر اعظم صاحب اس لئے پیچھے پڑے ہوئے تھے کہ اس طرح وہ اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ وہ اپنی استقبالیہ تقریر میں یہ کہتے تھے کہ میں احمدی نہیں ہوں۔لیکن جس شخص نے ( یہ ان کے الفاظ تھے ) بھی جماعت احمدیہ کی مخالفت کی اللہ تعالیٰ نے اسے تباہ کر کے رکھ دیا۔اب وہ ایک ایسے شخص سے جو یہاں سے پانچ ہزار میل دور سیرالیون کے رہنے والے تھے نہ وہ یہاں آئے نہ مرکز سلسلہ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق تھا احمدی وہ نہیں تھے محض ایک