خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 356 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 356

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۵۶ خطبه جمعه ۱۱ اگست ۱۹۷۲ء آجائیں گے تو اسلام کی بیماری کی کیفیت دور ہو جائے گی۔پس فسادی کے فساد کو دور کرنے کی کوشش وہی آدمی کر سکتا ہے جس کو ایک تو علم ہو کہ فساد بری چیز ہے۔دوسرے اس کو یہ علم ہو کہ اس کو دور کس طرح کیا جاسکتا ہے۔تیسرے ایسی جماعت کے ساتھ اس کا تعلق ہو جس کے متعلق یہ پیشگوئی ہو کہ وہ اس بیماری کو دور کرے گی اور اس سے مراد جماعت احمدیہ کے افراد ہیں اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔اس لحاظ سے ہماری بڑی ذمہ داری ہے۔یہ ذمہ داری مجھ پر بھی اور آپ پر بھی۔مردوں پر بھی اور عورتوں پر بھی اور خصوصاً نو جوانوں پر عاید ہوتی ہے۔یوں تو میری دعا ہے اللہ تعالیٰ جماعت کے ہر فرد کو لمبی زندگی عطا فرمائے لیکن عام حالات میں چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ بڑی عمر والوں کی نسبت نوجوانوں نے زیادہ عرصہ اس دنیا میں زندہ رہنا ہوتا ہے۔اس لئے احمدی نوجوانوں سے میں خاص طور پر یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کچھ حقوق عاید کئے ہیں۔ان میں تمہارا ایک حق یہ بھی ہے کہ اسلام کہتا ہے کہ نہ صرف اپنے نفس کے حقوق کو پورا کرو بلکہ دوسروں کے حقوق بھی ادا کرو۔تمہیں اللہ تعالیٰ نے یہ حق عطا فرمایا ہے کہ تم دنیا کے رہبر اور قائد بنو۔تم دنیا کے معالج اور طبیب بنو۔پھر کیوں تم اپنے ان حقوق کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اپنے ان حقوق کو لینے کی کوشش نہیں کرتے۔میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطا فرمائے کہ ہم صالح بنے رہیں مفسد نہ بنیں ہمیشہ صلاح کی کوشش کرتے رہیں۔جہاں بھی فساد ہو اس کو دور کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں اور اس کارخیر میں بفضلہ تعالیٰ کامیاب ہوں تا وہ جو آج مظلوم ہے اسے اس کے سب حقوق مل جائیں۔آمین روزنامه الفضل ربوه ۱۶ ستمبر ۱۹۷۲ ء صفحه ۱ تا ۸)