خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 338 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 338

خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۸ خطبه جمعه ۱۱ راگست ۱۹۷۲ء لیکن سونا تو ضائع نہیں ہوا۔وہ تو اپنی شکل میں موجود ہے اور نہ ہی سونے کی خصوصیت میں کوئی فرق پڑا۔وہ بازار میں مارکیٹ کے نرخ پر بک جائے گا اور چور کو اس کے پیسے مل جائیں گے یا کسی سنار کے ہاتھ میں یہ مال حرام چلا جائے گا اور وہ اس سے کسی کی بیوی یالڑکی کے لئے زیور بنا دے گا۔غرض سونا چونکہ ایک بڑی قیمتی دھات ہے۔اس کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی قیمت میں اس قسم کی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جب یہ چوری ہو جاتا ہے تو گویا جو اس کا مالک تھا اس کے ہاتھ سے یہ نکل گیا اور اس کا جو حق دار نہیں تھا اس کے پاس چلا گیا۔پس اس معنی میں عربی زبان میں اهْلَك يا الهَلاك کا لفظ بولا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز مثلاً سونا ہے وہ ضائع نہیں ہوالیکن ایک آدمی کے ہاتھ سے نکل کر دوسرے کے ہاتھ میں چلا گیا۔جس کے ہاتھ سے نکلا اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کا سونا ہلاک ہو گیا۔اس کے دوسرے معنے ہیں هَلَاكُ الشَّيْ ءٍ بِاسْتِحَالَةٍ وَ فَسَادٍ - یعنی کوئی چیز خراب ہونے کی وجہ سے ہلاک ہوگئی۔مثلاً کھانے کے متعلق جب عربی میں یہ کہیں گے کہ هَلَكَ الطَّعَامُ تو اس کے معنے ہوں گے کھانا خراب ہو گیا ہمارے جلسہ سالانہ پر صبح دال کی دیگیں پکتی ہیں بعض دفعہ اگر وہ بچ جائیں تو دوسرے وقت تک وہ اہل رہی ہوتی ہیں ایسے موقع پر عربی میں کہیں گے هَلكَ الطعام کھانا ہلاک ہو گیا یعنی خراب ہو گیا۔پھر اِسْتِحَالَہ کے ایک معنی تَحَولَ مِنْ حَالٍ إلى آخر کسی چیز کی حالت بدل کر دوسری حالت میں آگئی۔دراصل هَلَكَ الطَّعَامُ “ کے بنیادی معنی بھی یہی ہیں تا ہم اس کی شکل تھوڑی سی بدلی ہوئی ہے۔اِسْتِحَالَہ کے دوسرے معنے صَارَ مَحَالًا “ کے ہوتے ہیں اور محال کے معنے باطل کے ہیں یعنی ایسی چیز جو ہر جہت سے فساد کی مقتضی ہو وہ عربی زبان میں محال کہلاتی ہے۔أَهْلَكَ ( يا الْهَلَاكُ ) کے تیسرے معنے موت کے ہوتے ہیں۔یعنی انسانی زندگی میں بنیادی تبدیلی کا رونما ہونا ہم تو روح کو زندہ سمجھتے ہیں ہم روح اور مادی اجزاء کے ملاپ کو دنیوی زندگی سمجھتے ہیں۔اس ملاپ کے نتیجہ میں ایک نئی چیز پیدا ہوتی ہے اور وہ انسان ہے جسے اس دنیا کا عقل اور شعور دیا گیا ہے۔جب انسان کی یہ کیفیت باقی نہ رہے تو اس پر موت وارد ہو جاتی ہے۔