خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 336
خطبات ناصر جلد چہارم ۳۳۶ خطبه جمعه ۱۱ اگست ۱۹۷۲ء وو 66 پارٹیاں ہیں ” کہتی ہے ”ب“ نے میرے خلاف یہ کہا ہے اور ”ب“ کے خلاف الزام لگاتی ہے کہ تم نے جو یہ بات کہی ہے اس کا مطلب یہ ہے۔چنانچہ جھگڑا کرنے کے لئے اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص آل الخِصَامِ کے گروہ میں ہے وہ خواہ کتنا ہی يُعْجِبُكَ قوله في الحیوۃ الدنیا کے زمرہ میں آجائے اور خواہ کتنی ہی چرب زبانی سے کام لے اور بظاہر بڑی ہی پسندیدہ باتیں کرے اور قسمیں کھا کھا کر کہے میں بڑا مخلص ہوں۔ملک کا استحکام میرا مقصد ہے اور یہ ہے اور وہ ہے۔یا وہ یہ کہے کہ ہم بھی دنیا میں غلبہ اسلام چاہتے ہیں ، اسلامی معاشرہ کے لحاظ سے برسر اقتدار جماعت کی طرح ہم بھی مساوات محمدی چاہتے ہیں لیکن ان تمام باتوں کے بعد ذراسی بات میں نہ وہ مساوات باقی رہتی ہے اور پھر جہاں تک انسان کے اقتصادی حقوق کا تعلق ہے نہ وہ حقوق کی ادائیگی باقی رہتی ہے۔نہ وہ حب الوطنی باقی رہتی ہے اور نہ ہی پاکستان کے استحکام کا خیال باقی رہتا ہے۔وہ لڑائی شروع کر دیتا ہے کہتا ہے اچھا تمہارا مطلب یہ ہے یا جو تم نے فقرے کہے ہیں، اس میں تم نے ہمیں گالیاں دی ہیں۔کہنے والے کی بات کچھ اور ہوتی ہے مگر یہ اس میں سے اپنے مفسدانہ مطلب کی بات نکالتا اور اسے گالی بنالیتا ہے اور پھر اپنے حریف کو بغیر مطلب کے بے نقط گالیاں دینے لگ جاتا ہے۔ہمیں یعنی اُمت محمدیہ کے ان افراد کو جن کے دل میں اللہ تعالیٰ نے خلوص پیدا کیا ہے اور جو اپنے دل میں غلبہ اسلام کی تڑپ رکھتے ہیں اور ملکی اتحاد چاہتے ہیں اور نیکی اور تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ہمیں یہ دیکھ کر بڑی کوفت ہوتی ہے۔ہمارے دل میں بڑی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ یہ کیا مسخرہ پن ہے۔یہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ایک طرف مذہب سے ، دوسری طرف ملک سے، تیسری طرف معاشرہ سے اور چوتھی طرف اقتصادی حقوق کی ادائیگی سے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگ جن کی زبان بظاہر بہت میٹھی اور باتیں بڑی اچھی ہوں۔اصولی طور پر وہ دعوے بھی بڑے کریں کہ ہم یہ ہیں، ہم وہ ہیں۔ہم یہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم وہ کرنا چاہتے ہیں۔مگر ذرا ذراسی بات پر جھگڑا شروع کر دیں یعنی ایک طرف زبان بڑی میٹھی