خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 256 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 256

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۵۶ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء دیا۔اس کو کوئی صحیح سمجھتا ہے تو مان لے اور صحیح نہیں سمجھتا تو نہ مانے لیکن ایک احمدی کو خاتم النبیین کے اس معنے کی وجہ سے منکر ختم نبوت نہیں کہا جا سکتا یہ بڑی اچھی رو ہے جو ہمارے حق میں پیدا ہو چکی ہے۔میرا خیال ہے کہ آئندہ پانچ سات سال میں یہ مسئلہ بھی ختم ہو جائے گا۔کیونکہ وہ ہمارے معنے مانیں یا نہ مانیں، وہ ہمیں اس وجہ سے منکر ختم نبوت نہیں کہہ سکتے۔ایسے شخص کے ساتھ آپ کی بحث اور قسم کی ہوگی۔میں نے نوجوانوں کو پہلے بھی کہا تھا کہ آپ لوگوں کے لئے ایک مشکل سامنے آرہی ہے۔تم اس کے لئے تیاری کرو۔جب یہ فلسفیانہ اور نظریاتی مسئلے ختم ہو گئے تو پھر لوگوں نے کہنا ہے کہ ہم میں اور تم میں عملاً کیا فرق ہے۔اسلامی تعلیم پر جو تم عمل کر رہے ہو تو جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نمونہ دکھایا تھا تم بھی اس کا نمونہ دکھاؤ۔پس اس کے لئے ہمیں تیار ہونا چاہیے۔دُنیا کی طرف نہیں جھکنا چاہیے۔یوں تو اس کی سب پر ذمہ داری ہے لیکن نوجوان نسل پر سب سے زیادہ ذمہ داری ہے۔اس لئے کہ زیادہ شدت کے ساتھ یہ سوال انہی سے پوچھا جائے گا۔ابھی کچھ عرصہ تو اس سوال میں وہ شدت پیدا نہیں ہوگی کچھ تھوڑے بہت لوگ ابھی تک حیات و وفات مسیح کے مسئلے پر الجھتے ہیں۔تاہم یہ دس پندرہ فی صد سے زیادہ نہیں ہیں۔اس طرح ختم نبوت کے مسئلے پر بھی لوگ الجھتے ہیں۔لیکن یہ چالیس پچاس فیصد سے زیادہ نہیں ہیں۔لیکن ایک وقت آتا ہے کہ یہ مسئلہ بھی کلی طور پر نہیں تو ستر ، اسی فیصد تک ضرور صاف ہو جائے گا۔پھر لوگ پوچھیں گے کہ ہم میں اور تم میں کیا فرق ہے۔اسلام سے ہم نے جو حاصل نہیں کیا وہ تم نے حاصل کیا ہے تو کیا کیا ہے۔اس واسطے اسلامی تعلیم کا نمونہ بننے کے لئے تمہیں تیار رہنا چاہیے۔اگر تم احمدیت کو واقعی سچا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نہایت ہی بابرکت مہم سمجھتے ہو۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کو تم واقعی پہچانتے ہو جو آج ہم پر نازل ہو رہے ہیں اور وَلا فَخْرَ کیونکہ وہ ہماری کسی نیکی اور خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی رحمت جوش میں ہے۔وہ اسلام کو غالب کرنا چاہتا ہے۔اگر یہ ساری چیزیں ہیں تو پھر تمہیں اسلام کو غالب کرنے کے لئے اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگین