خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 7 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 7

خطبہ جمعہ کے رجنوری ۱۹۷۲ء خطبات ناصر جلد چہارم ۹۶ کا بیس فیصد ہوگا اور پھر اس سے اگلے سال ۱۱۰ کا بیس فیصد ہوگا اور پھر اسی طرح تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔تب آپ کام کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ کھڑے رہیں تو پھر کام نہیں کر سکتے۔اس نسبت سے آپ آگے بڑھیں تب بھی کم ہے لیکن اگر آپ ہیں کی بجائے تیں یا چالیس فی صد کر دیں تو پھر ٹھیک ہے۔اگر آپ دُگنا کرتے جائیں تو پھر یہ بہت ہی اچھا ہے۔اس طرح تو پھر ہم دس سال میں اپنا مقصد حاصل کر لیں گے یعنی ۸۰ سے ۱۶۰ اور اس سے اگلے سال ۳۲۰ اور پھر اس سے اگلے سال ۶۴۰ اور پھر اس سے اگلے سال ۱۲۸۰ علی ہذا القیاس اس طرح ہم بڑی جلدی آگے نکل جائیں گے۔یہ تو (( یعنی وہ پہلی بات) ہے جو میں جماعت سے کہنا چاہتا ہوں۔(ب) یہ ہے کہ آپ جو آدمی دیں اُن میں کچھ تو صلاحیت ہونی چاہیے۔اس وقت م معلمین کا ایک حصہ ایسا ہے ( سب کے متعلق تو میں یہ نہیں کہتا لیکن ایک حصہ ضرور ایسا ہے ) جو یہ سمجھتا ہے کہ ہماری کہیں اور جگہ کھپت نہیں ہو سکتی ، اس واسطے یہاں آ جاؤ۔اگر اس طرح کے آدمی آئمیں تو ہمارا کام کیسے ہو گا۔ہم نے اُن سے کام تو یہ لینا ہے کہ جب کسی کو کہیں سے بھی کامیابی نصیب نہ ہو تو وہ ان سے حاصل کرے لیکن وہ آدمی جو اس ذہنیت سے آیا ہے کہ اس کی کہیں کھپت نہیں ہو سکتی اس لئے وہ یہاں آجائے اُس نے کام کیا کرنا ہے۔وہ آدمی جو ساری دُنیا کی ناکامیاں دیکھ کر آتا ہے وہ دُنیا کی ہدایت کا سامان کیسے پیدا کر سکتا ہے۔یہ ایک سرے پر ہے اور جس کی اس نے ہدایت کرنی ہے وہ دوسرے سرے پر ہے یا مجھے یوں کہنا چاہیے کہ یہ بائیں سرے پر ہے اور دوسرے آدمی کی ضرورت دا ئیں سرے پر ہے یعنی دو چیزوں میں جو زیادہ سے زیادہ بعد ہو سکتا ہے وہ ان میں پایا جاتا ہے۔پس جماعت سے میں یہ کہتا ہوں کہ جو آدمی وقف جدید کے لئے دیں وہ قابل اور اہل ہونا چاہیے اور پھر جب آدمی دیں تو اُن کو خرچ بھی دیں۔جتنے زیادہ آدمی دیں گے اُن پر اتنا زیادہ خرچ بھی آئے گا۔اس کے مطابق آپ کو چندہ دینا چاہیے۔اب پچھلے سال وقف جدید کا دولاکھ چالیس ہزار روپے کا بجٹ تھا اور دسمبر کے آخر تک ایک لاکھ بہتر ہزار روپے آمد ہوئی ہے اور اب نیا سال شروع ہو گیا ہے گذشتہ سال جو کام آپ نے