خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 248
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴۸ خطبہ جمعہ ۲۳ جون ۱۹۷۲ء جو لوگ خدا تعالیٰ اور اُخروی زندگی پر ایمان لاتے ہیں۔ان کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی (جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے ) اسوۂ حسنہ ہے۔اس طرح جو لوگ خدا تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں اور اُخروی زندگی پر بھی ایمان رکھتے ہیں مگر مسلمان نہیں وہ آگے دو گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ایک کو قرآنی اصطلاح میں کافر کہتے ہیں اور دوسرے کو منافق کہتے ہیں۔ان ہر دو گروہ نے خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اُخروی زندگی کے لئے دُنیا میں آسمانی ہدایت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے بھی ہر وہ آسمانی ہدایت جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے نازل ہوئی اس کا بھی ان میں سے بہتوں نے انکار کیا اور اس کے خلاف بڑی جدو جہد کی اور بڑا مقابلہ کیا یہاں تک کہ اس کے خلاف روحانی جنگ اور بعض موقعوں پر جسمانی جنگ بھی لڑی گئی۔اسی طرح پھر حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر نازل ہونے والی شریعت کا بھی انکار کیا گیا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں قرآن اور اسلام کے مقابلے میں بھی دو گروہ ہیں۔ایک کافروں یعنی منکرین اسلام کا گروہ ہے اس گروہ میں شامل لوگ اسلام کا انکار کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ تو ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے رسول نہیں اُخروی زندگی تو ہے اور اس کے لئے آسمانی ہدایت کی بھی ضرورت تو ہے۔لیکن یہ آسمانی ہدایت نہیں ہے۔ں ہے۔جسے تم اسلام کہتے ہو۔ایک دوسرا گروہ وہ ہے جو اسلام میں شامل ہو جاتا ہے۔اس کے شامل ہونے کی بہت سی وجو ہات ہوتی ہیں۔بعض لوگ دنیوی لالچ کے لئے شامل ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ دنیوی عزتوں کے لئے شامل ہو جاتے ہیں۔بعض لوگ دنیوی مشکلات سے بچنے کے لئے اسلام میں شامل ہو جاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔وہ اسلام میں شامل تو ہو جاتے ہیں۔لیکن حقیقی ایمان نہیں لاتے۔ان کی زبان پر ایمان کا لفظ ہوتا ہے لیکن دل میں ایمان نہیں ہوتا ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ وہ دور نگ یعنی منافق ہے۔یک رنگی اس کی طبیعت میں نہیں ہوتی وہ کسی رنگ میں صاف اور سیدھا نہیں ہوتا۔نہ قول سدید کا پابند اور نہ صراط مستقیم پر چلنے والا ہوتا ہے۔ان دو گروہوں کے متعلق بھی قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر تفصیلی طور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔