خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 249
خطبات ناصر جلد چہارم ۲۴۹ خطبه جمعه ۲۳ جون ۱۹۷۲ء اس مضمون کو میں اپنے وقت پر انشاء اللہ بیان کروں گا۔لیکن یہاں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں ک يَايُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللهَ میں دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی طرف اشارہ ہے۔تقویٰ کے معنے ہیں جو چیز ایذا دینے والی یا ضرر پہنچانے والی ہے اس سے حفاظت کرنا۔ان چیزوں سے حفاظت کا نام وقاية ہے۔عربی کے بعض قواعد کے لحاظ سے واؤ۔ت سے بدل جاتی ہے۔اس کا اصل مصد روقی ہے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا ہے کہ کافروں کو دیکھو، وہ تعداد میں زیادہ ، دنیوی سامانوں میں زیادہ ، جتھہ بندی میں زیادہ ، سیاسی اقتدار میں زیادہ اور رعب میں زیادہ ہیں۔پھر تاریخی روایات ان کے حق میں زیادہ ہیں۔جہاں تک تاریخی روایات کا تعلق ہے وہ ان کے نتیجہ میں کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے تو اپنے آباؤ اجداد کو ایسے عقائد کا پابند نہیں پایا۔ان کو تو ہم نے بتوں کی پرستش کرتے ہی دیکھا ہے۔ان کو تو ہم نے یہ کرتے اور وہ کرتے دیکھا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ شیطان ان کو اس قسم کی احمقانہ بات بھی سکھا سکتا ہے کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو ہر رسول کی مخالفت کرتے دیکھا ہے۔ہم نے ہر رسول کا انکار کرتے دیکھا ہے اور ہم نے ہر رسول کا استہزاء کرتے دیکھا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے بھی کہا ہے کہ جو بھی رسول آیا۔خدا کے بندوں میں سے بہتوں نے شروع میں اس سے استہزاء ہی کیا۔بہر حال ایک تو یہ گروہ ہے جو جتنے میں زیادہ مال میں زیادہ ، سیاسی اقتدار میں زیادہ، رعب میں زیادہ ، رعب کے غلط فوائد حاصل کرنے میں زیادہ ہوتا ہے۔( مسلمان تو اپنے اقتدار اور اثر و رسوخ کا غلط فائدہ اٹھا ہی نہیں سکتے ) اور پھر اسلام کے خلاف منصو بہ انتہائی طور خطر ناک اور دل میں بڑی سخت مخالفت کہ اسلام کو مٹا دینا ہے۔دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو ظاہر میں اسلام لے آتے ہیں۔لیکن اندر ہی اندر ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے ہیں۔وہ اندر سے اسلام کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔وہ اسلام کی ترقی میں رخنہ ڈالتے ہیں۔جس طرح پانی آہستہ آہستہ بنیادوں میں مار کرتا ہے اور مکان کو گرا دیتا ہے اسی طرح ان کا اثر بھی آہستہ آہستہ رونما ہوتا ہے۔ان کی خفیہ طور پر یہ کوشش