خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 211 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 211

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۱۱ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء اور اُن سے تذلل اور عاجزی کا مطالبہ کرتا اور خواہش رکھتا ہے گو انسان کو اختیار دے دیا گیا۔مگر خدا تعالیٰ چاہتا یہی ہے کہ انسان اس کے سامنے عاجزانہ طور پر جھکے اور اس کی بتائی ہوئی عاجزانہ راہوں کو اختیار کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً یعنی وہ نگران رسول بھیجتا ہے۔وہ بندوں کی طرف نگران رسول ہو کر آتے ہیں۔ان کی طرف خدا کا پیغام لے کر آتے ہیں اسی لئے ان کو پیغمبر بھی کہا گیا ہے اور نگران کی وجہ سے شہید اور شاہد بھی کہا گیا ہے۔وہ یہ دیکھتے ہیں کہ کہاں غلطی ہوئی۔کس رنگ میں غلطی ہوئی اور پھر کس طرح اس کی اصلاح کرنی چاہیے۔وہ نگران کے طور پر انذار بھی کرتے ہیں اور تبشیر بھی۔اس کے وہ حفظ یعنی نگران ہونے کے لحاظ سے اور پھر اس لحاظ سے بھی کہ ان کے ذمہ یہ فرض عاید کیا گیا ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو عاجزانہ راہوں سے بھٹکنے نہ دیں یعنی ان کو عاجزانہ راہیں چھوڑنے نہ دیں۔اس لئے وہ بندوں کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔پس حَفَظَةً یعنی نگر ان کے معنے میں پیغام لانے والا بھی ہو گیا اور جس کے معنے بشیر اور نذیر کے بھی ہیں اور یہ نگرانی اس معنے میں بھی ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کی راہوں سے بھٹک نہ جائیں۔قرآن کریم نے ہمیں دوسری جگہ یہ بتایا ہے کہ انسان کی یہ کوشش کہ کوئی آدمی صراط مستقیم سے بھٹک نہ جائے بالکل لا یعنی ہے اور اس کا نتیجہ کبھی نہیں نکل سکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ میرا کام ہے۔یعنی اس چیز کی حفاظت کہ کوئی شخص صراط مستقیم سے بھٹک نہ جائے خدا تعالیٰ کی ذمہ داری ہے۔یہ چیز انسان کے اختیار ہی میں نہیں ہے۔جب انسان کو اس کے کہنے کے مطابق رسول یا نگران یا شہید یا حافظ ( حفاظت کرنے والا ) کہا جائے گا تو یہ اس معنی میں کہا جائے گا کہ وہ دن رات دعائیں کر کے اللہ تعالیٰ کے فضل کو کھینچتا اور انسان کو گمراہ ہونے سے بچنے کی تبلیغ کرتا ہے۔غرض عبده میں یہ اعلان کیا تھا کہ میں نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں اور رسولہ میں یہ اعلان کیا کہ میں خدا کا رسول اور حافظ بنا کر شہید اور شاہد بنا کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہوں۔پھر ملک کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میں پاک ہوں درحقیقت یہ ایک بڑا ہی عظیم اعلان ہے اور