خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 203 of 640

خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 203

خطبات ناصر جلد چہارم ۲۰۳ خطبه جمعه ۵رمئی ۱۹۷۲ء حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا آ گیا۔پھر دوسرے انبیاء علیہم السلام کا درجہ بدرجہ مقام ہے۔پھر ان کے نیچے ان لوگوں کا مقام ہے جو نبی نہیں بلکہ محض عبد ہیں اور جس میں ہم سب شامل ہیں۔پس ہمیں اپنا مقام پہنچانا چاہیے۔ہمیں بزرگی یا فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرتے رہنا چاہیے۔اور لرزاں و ترساں اپنی زندگی کے دن گزار نے چاہئیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ مبارک سے جب یہ اعلان کروایا گیا ہے کہ میں تمہیں یہ کہتا ہی نہیں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں۔نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس علم غیب ہے اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں تو پھر تم ( یا میں ) کس منہ سے اس کا (جس کا اتنا انکار کیا گیا ہے ) یا اس سے بڑھ کر کسی چیز کا دعویٰ کر سکتے ہو؟ سورۃ انعام میں آگے جا کر بڑی لطیف تفسیر بیان ہوئی ہے۔اس کی طرف میں اس وقت اشارہ کر دیتا ہوں۔فرمایا تھا قُلْ لا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَابِنُ اللہ کہ اے رسول ! تم یہ اعلان کر دو کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں۔میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس خزائن اللہ ہیں۔اب جہاں تک خزائن اللہ کے نہ ہونے کا تعلق ہے یہ عَبدہ کا حصہ ہے۔رَسُولُہ کا جو حصہ ہے بالکل اس کے مقابلے میں جو آیتیں آئی ہیں وہ اس کو اسی طرح کھول رہی ہیں جس طرح گلاب کی پتیاں کھل رہی ہوتی ہیں اور گلاب کا پھول خوبصورت سے خوبصورت تر بنتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح انکار کیا خزائن اللہ کے ہونے کا۔اور اقرار کیا اس بات کا کہ یہ رسول بشارت وانذار کرنے والا ہے۔اب سوچنا یہ چاہیے کہ ڈرایا کس چیز سے جاتا ہے اور بشارت کس چیز کی دی جاتی ہے۔ڈرایا جاتا ہے اس بات سے ( یعنی جب قرآن کریم ڈرائے۔ہم اس کی بات کر رہے ہیں۔خوف مختلف قسم کے ہوتے ہیں لیکن اس وقت ہم دین اسلام، خدا تعالیٰ اور قرآن کریم کی تعلیم کے متعلق بات کر رہے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے انبیاء بالخصوص آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کامل انذار یہ ہے ) کہ وہ خزائن اللہ جنہیں تم حاصل کر سکتے ہو، اپنی غفلتوں اور کوتاہیوں کے نتیجہ میں تم خود کو اُن خزائن سے محروم نہ کر دینا۔بشارت کسی چیز کی دی جاتی ہے بشارت اس چیز کی دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ تمہارے لئے نہ ختم ہونے