خطباتِ ناصر (جلد4۔ 1972ء) — Page 194
خطبات ناصر جلد چہارم ۱۹۴ خطبه جمعه ۲۸ ۱۷ پریل ۱۹۷۲ء محاورہ تو ہمیں خوش کرنے کے لئے بنا دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے ورنہ اصل تو یہ ہے کہ ہمارا ہی حق ہے کہ ہم اپنے رب کو راضی کر لیں اور یہ اس کی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں یہ حق دے دیا۔حقوق اللہ کی طرح حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کے حق اور اس کے بندوں کے حق کو اُسی کے حکم اور منشاء اور قانون اور شریعت کے مطابق اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ادا کرنا یہی اسلام ہے اور یہی مذہب ہے۔پہلے مذاہب اور رنگ کے تھے۔وہ وقتی، زمانی اور مکانی تھے اب ایک عالمگیر مذہب یعنی اسلام آ گیا ہے جو قیامت تک کے لئے ہے لیکن مذہب کی یہ خصوصیت یعنی اس کا وقتی یا زمانی یا مکانی ہونا یا اس کا ایک عالمگیر اور قیامت تک کے لئے ممتد ہونا ، دونوں میں اس لحاظ سے کوئی تفریق نہیں کرتی کہ اللہ تعالیٰ کا حق اور اس کے بندوں کا حق ادا کرنا ہے یا نہیں۔ہر مذہب جو اس دُنیا میں آیا اس نے کہا کہ خدا کے حقوق اُس کو دو اور اس کے بندوں کے حقوق ان کو دو۔یہ صحیح ہے کہ اسلام نے عالمگیر مذہب ہونے کے لحاظ سے ایسے حقوق قائم کئے جو عالمگیر نوعیت کے ہیں اور ان کی ادائیگی کے ایسے سامان پیدا کئے کہ ہر زمانہ میں جو حق بنے تو بدلے ہوئے حالات کے لحاظ سے ان حقوق کی ادائیگی کی سمجھ اور ان کا فہم بھی عطا کیا۔خدا تعالیٰ نے اسلام میں اپنے بندوں کو کھڑا کیا جنہوں نے قرآن کریم سکھا یا۔پھر ان حقوق کی ادائیگی کے لئے جن نئے سے نئے سامانوں کی ضرورت تھی وہ بھی پیدا کئے۔دراصل ہم اپنے مال بھی حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے ہی پیش کرتے ہیں۔مثال کے طور پر خدا کے بندے کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے علم قرآن حاصل ہو۔یہ ایک بندے کا حق ہے اور کوئی شخص اپنے بھائی کو یہ نہیں کہ سکتا کہ جا تجھے قرآن کریم سے کیا تعلق ہے؟ کیونکہ قرآن کریم نے تو ہر فرد بشر کو مخاطب کر کے کہا کہ مجھے سیکھ مجھے سمجھے، مجھے سے فائدہ اُٹھا اور میرے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کر۔پس ہر بندہ خدا کا یہ حق ہے کہ وہ قرآن جانتا ہو اور قرآن کی سمجھ رکھتا ہو۔اب ہماری مالی قربانیوں کا ایک حصہ اُس حق کی ادائیگی پر خرچ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ نے ہر فرد بشر کا قائم کیا کہ وہ قرآن کریم کا علم حاصل کرے اور اس سے استفادہ کرے۔ہمیں اس کے متعلق بھی غور کرنا چاہیے